زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 196

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 196 جلد دوم جب اپنے بچے کو لٹایا اور چھری نکال کر اس کے گلے پر اپنا ہاتھ رکھ کر چاہا کہ چھری چلا دے تو اللہ تعالیٰ نے معا اپنا دوسرا کلام نازل کیا اور فرمایا اے ابراہیم ! تو نے اپنی بات پوری کر دی۔جا اور اب اپنے بیٹے کی جگہ ایک بکرا قربان کر دے کیونکہ اس بیٹے کو خدا تعالیٰ تیرے ہاتھ سے کسی اور طرح قربان کرانا چاہتا ہے۔جانتے ہو وہ کیا قربانی تھی؟ وہ قربانی جو بعد میں ظاہر ہوئی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جا اسماعیل اور اُس کی والدہ ہاجرہ کو مکہ کے میدان میں چھوڑ آ کیونکہ خانہ کعبہ کی حفاظت اور اُس کی عظمت کا کام اللہ تعالیٰ ان سے لینا چاہتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل اور اُس کی ماں ہاجرہ کو اپنے ساتھ لیا اور انہیں مکہ کی جگہ چھوڑ آئے۔اُس وقت وہاں کوئی آبادی نہ تھی ، ریت کا ایک میدان تھا جس میں میلوں تک نہ کھانے کیلئے کوئی چیز نظر آتی تھی اور نہ پینے کیلئے پانی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مشکیزہ پانی کا اور کھجوروں کی ایک تھیلی اُن کے پاس رکھی اور وہاں انہیں بٹھا کر واپس لوٹ آئے۔جب آپ واپس آ رہے تھے تو اپنی بیوی اور بچے کی قربانی کو دیکھ کر ابراہیم کے جذبات میں جوش پیدا ہوا اور اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔بیوی کو چونکہ انہوں نے بتایا نہیں تھا کہ وہ انہیں ہمیشہ کیلئے اس بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑے جارہے ہیں، جب انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو وہ سمجھیں کہ یہ جوش جو پیدا ہو رہا ہے یہ دائی جدائی کا پیش خیمہ ہے۔چنانچہ حضرت ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے پیچھے آئیں اور کہا ابراہیم ! تم ہمیں کہاں چھوڑے جا رہے ہو؟ یہاں تو نہ پینے کیلئے پانی ہے نہ کھانے کیلئے غذا، بے یار و مددگار، بے آب و گیاہ جنگل میں چھوڑ کر جس میں نہ پینے کی کوئی چیز ہے نہ کھانے کی کوئی چیز تم ہمیں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام جذبات کے وفور کی وجہ سے کوئی جواب نہ دے سکے۔حضرت ہاجرہ نے پھر اصرار کیا اور پوچھا کہ بتاؤ تم کہاں جا رہے ہو؟ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر کوئی جواب نہ دے سکے۔آخر حضرت ہاجرہ نے کہا تم ہمیں کیوں چھوڑے کی جار ہے ہو ؟ کیا خدا کے حکم سے تم ایسا کر رہے ہو؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کا بھی