زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 184
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 184 جلد دوم تحریک جدید ہی ان کی دوست ہو اور تحریک جدید ہی ان کی عزیز ہو، جب رات اور دن انہیں کسی پہلو بھی چین نہ آئے ، جب تک نہ صرف ان کے بلکہ ان کے رشتہ داروں ، ان کے دوستوں اور ان کے ہمسایوں کے کام کاج بھی تحریک جدید کے ماتحت نہ آجائیں۔اور جب تک وہ اس یقین پر قائم نہ ہو جائیں کہ احمدیت تحریک جدید ہے اور تحریک جدید احمدیت ہے اُس وقت تک قومی فتح کا زمانہ نہیں آ سکتا۔ہاں انفرادی فتح کا زمانہ آ سکتا ہے مگر انفرادی فتح یا انفرادی قربانی کوئی چیز نہیں۔ہارنے اور شکست کھانے والی قوموں میں بھی ایسے لوگ ملتے ہیں جنہوں نے انفرادی لحاظ سے بہت بڑی جرات اور بہادری دکھائی۔ٹیپوسلطان مارا گیا کیونکہ اُس کی قوم نے اُس سے غداری کی لیکن اُس کا نام آج تک زندہ ہے۔جس وقت وہ اسلام کی حکومت کے قیام کیلئے انگریزوں سے لڑ رہا تھا اُس نے نظام حیدر کو لکھا کہ میں تمہارے ماتحت ایک سپاہی کی حیثیت میں کام کرنے کیلئے تیار ہوں آؤ اور ہم دونوں مل کر انگریزوں کا مقابلہ کریں مگر نظام نے انکار کر دیا اور اُس نے خیال کیا کہ مجھے انگریزوں سے لڑائی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔پھر اُس نے حکومت ایران کو لکھا۔پھر اُس نے ترکوں کو لکھا کہ بے شک ہندوستان ایک غیر ملک ہے لیکن یا درکھو! اگر ہندوستان سے اسلام مٹا تو تمہاری حکومتیں بھی مٹ جائیں گی۔مگر انہوں نے بھی انکار کر دیا۔تب وہ اکیلا انگریزوں سے لڑا۔اور جب وہ انگریزوں سے لڑ رہا تھا تو اُس کے اپنے بعض جرنیلوں نے پیچھے سے قلعہ کے دروازے کھول دیئے اور انگریز اندر داخل ہو گئے۔اُس کا ایک وفادار جرنیل دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا انگریز قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ہیں۔وہ اُس وقت دو فصیلوں کے درمیان لڑ رہا تھا ، بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا کیونکہ باہر بھی انگریزی فوج تھی اور اندر بھی۔وہ ابھی آپس میں بات ہی کر رہے تھے کہ اتنے میں انگریزی افسر آ پہنچا اور اس نے فصیل کی دوسری طرف سے آواز دی کہ ہمیں اپنے ہتھیار دے دو، ہم تم سے عزت کا سلوک کریں گے۔اُس وقت ٹیپو نے جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ اُس نے تلوار سونت لی اور یہ کہہ کر انگریزوں پر ٹوٹ پڑا کہ گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی