زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 185
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 185 جلد دوم ایک گھنٹہ کی زندگی بہتر ہے اور مارا گیا۔بے شک اس سے ٹیپو کی بہادری اور جرآت ظاہر ہوتی ہے مگر اس میں ٹیپو کی قوم کی کوئی عزت نہیں۔بے شک میسور کی عزت اس واقعہ سے بلند ہوگئی مگر مسلمانوں کا وقار کھویا گیا۔بے شک ٹیپو ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گیا مگر کیا ٹیپو کے زندہ ہونے سے مسلمانوں یا ہندوؤں کو کوئی فائدہ پہنچا ؟ اگر آج میسور کے لوگ ٹیپو کے کارنامہ پر اپنا فخر جتائیں، اگر آج ہندوستان کے باشندے ٹیپو کے کارنامہ پر اپنا فخر جتائیں تو ان سے زیادہ بے غیرت اور کوئی نہیں ہوگا کیونکہ وہ خود اُس کی فتح کے راستہ میں حائل بنے۔انہوں نے اُس سے غداری کی اور اُسے دشمنوں کے نرغہ میں اکیلا چھوڑ دیا۔پس بے شک ٹیپو سلطان کیلئے یہ ایک فخر کی بات ہے مگر ہندوستانیوں کا اس میں کوئی فخر نہیں ، مسلمانوں کا اس میں کوئی فخر نہیں اور میسور کے لوگوں کا اس میں کوئی فخر نہیں۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ نے جو قربانیاں کیں وہ صرف اُن لوگوں کیلئے ہی باعث فخر نہ تھیں جنہوں نے قربانیاں کیں بلکہ ساری قوم اس فخر میں شریک تھی کیونکہ وہ ساری قوم ان قربانیوں کیلئے تیار تھی۔قرآن کریم خود شہادت دیتا اور فرماتا ہے مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ ؟ خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنے والے مر گئے مگر یہ نہ سمجھو کہ وہ مر گئے تو باقی قوم یونہی رہ گئی بلکہ وہ قوم بھی موت کا انتظار کر رہی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کب خدا تعالیٰ کی راہ میں اسے اپنی قربانی پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔یہ وہ چیز ہے جس پر کوئی قوم فخر کر سکتی ہے اور عزت سے اپنی گردن اونچی کر سکتی ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو اختیار کرنے کے بعد کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اگر قوم صرف انہی لوگوں کی قربانیوں سے زندہ رہ سکتی جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جائیں دیں تو صرف مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ہی کہا جاتا اور وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ کا فقرہ کبھی نہ کہا جاتا۔مگر منْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ کے ساتھ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ کے الفاظ کا آنا بتا تا ہے کہ قوم مرنے والوں سے زندہ نہیں رہتی بلکہ اُن زندہ رہنے والوں سے زندہ رہتی ہے جو ہر وقت مرنے کیلئے تیار ہوں۔پس حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید