زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 183
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 183 جلد دوم اس کی اغراض لوگوں کے ذہن نشین کرتے چلے جائیں تو آج جو ہمارے سامنے بچے بیٹھے ہوئے ہیں انہی کے دلوں میں کل تحریک جدید کے متعلق اس قدر جوش اور اتنا ولولہ ہوگا کہ انہیں چین اور آرام نہ آئے گا جب تک کہ وہ اپنے دوستوں ، اپنے رشتہ داروں اور اپنے ہمسایوں کو بھی اس تحریک کا قائل نہ کر لیں۔اور وہی دن ہوگا جو احمدیت کی فتح کیلئے قومی اور اجتماعی جد و جہد کا دن ہوگا۔اس وقت تک ہماری جد و جہد ایسی ہے جیسے اسے دستے آدمی کی جدو جہد ہوتی ہے۔قومی جدو جہد ہم اسے نہیں کہ سکتے۔قومی جد و جہد ہماری اُس وقت شروع ہوگی جب تحریک جدید کے ماتحت ہماری جماعت کے تمام افراد کی زندگیاں آجائیں گی اور جب جماعت احمد یہ اُس چٹان پر قائم ہو جائے گی جس چٹان پر قائم ہونے کے بعد زندگی اور موت، امارت اور غربت کے تمام امتیازات مٹ جاتے ہیں۔یاد رکھو قوموں کے احیاء اور قوموں کی زندگی میں انفرادی قربانی کوئی چیز نہیں بلکہ قوموں کی زندگی کیلئے جماعتی قربانی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔بیرونی ممالک کے مبلغین میں سے اگر کسی مبلغ نے خطرات برداشت کئے اور اپنے نفس پر مصیبتیں جھیلیں تو بے شک ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو ہمارا بہادر سپاہی مصائب اور خطرات کے اوقات میں بھی کیسا ثابت قدم نکلا۔مگر اس کی جرات اور بہادری کو دیکھ کر ہمیں یہ کہنے کا حق ہرگز حاصل نہیں کہ دیکھو ہماری بہادر قوم۔کیونکہ اس کی بہادری اس کے نفس سے تعلق رکھتی ہے، قوم کا حق نہیں کہ وہ مجموعی حیثیت سے اپنی طرف اسے منسوب کرے۔لیکن بہادر سپاہی کامیابی حاصل نہیں کیا کرتے بلکہ بہادر قومیں کامیابی حاصل کیا کرتی ہیں۔پس جب تک قومی لحاظ سے اپنی بہادری کا مظاہرہ نہ ہوا اور شاندار مظاہرہ نہ ہو اُس وقت تک قومی فتح حاصل نہیں ہو سکتی۔فتح کا دن وہی ہو گا جب وہ طالب علم جو اس وقت ہمارے سامنے بیٹھے ہیں ان کے سامنے ان کے استاد اور ان کے نگران ان کے فرائض دہراتے رہیں اور انہیں یہ سبق پڑھاتے چلے جائیں یہاں تک کہ ان سب میں قربانی کی روح پیدا ہو جائے۔اور تحریک جدید ہی ان کا اوڑھنا ہو، تحریک جدید ہی ان کا بچھونا ہو،