زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 182

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 182 جلد دوم سے کہہ دینا چاہئے کہ ہم اس تحریک پر عمل نہیں کر سکتے اور بورڈنگ سے اپنے آپ کو الگ کر لینا چاہئے۔لیکن جو طالب علم اس تحریک پر قائم رہیں اور اپنے ماں باپ کی بات مان لیں اور سمجھیں کہ جب ان کی مرضی یہ ہے کہ ہم اس تحریک کے ممبر بنیں تو ہمیں اس تحریک پر عمل کرنے میں کوئی عذر نہیں تو پھر اس روح کے ساتھ کام کرنا چاہئے جس روح کا تحریک جدید پر عمل کرتے وقت اختیار کرنا ضروری ہے۔اساتذہ کو بھی چاہئے اور انہیں بھی جولڑکوں کے نگران ہیں کہ متواتر ہفتہ میں ایک دو ایسے دیا کریں جن میں تحریک جدید کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے اور مختلف رنگوں میں اس کی وضاحت کی جائے۔اسلام پر جو مصائب اس وقت آئے ہوئے ہیں، سلسلہ کیلئے جن قربانیوں کی اس وقت ضرورت ہے ان تمام باتوں کا ذکر کیا جائے اور پھر منافق جو اعتراض کرتے ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے کیونکہ بچے کئی جگہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ان لیکچروں اور تقاریر کے سلسلہ کو جاری رکھا جائے یہاں تک کہ جب طلباء اپنی تعلیم سے فارغ ہو کر یہاں سے جائیں تو خواہ وہ مبلغ ہوں یا نہ ہوں تحریک جدید کو قائم رکھنے والے ہوں۔اب مجھے جو تحریک جدید کے متعلق مسلسل کئی خطبات ، کئی لیکچر اور کئی تقریریں کرنی پڑتی ہیں یہ در اصل اصول کے خلاف ہے۔سال کے خطبات میں سے ستر استی فیصدی خطبات میرے ایسے ہی ہوتے ہیں جو تحریک جدید کے متعلق ہوتے ہیں اور یہ حالت اسی وجہ سے ہے کہ جماعت خود توجہ نہیں کرتی ورنہ اصل چیز تو یہ ہے کہ خلیفہ وقت جو نہی ایک بات کہے جماعت فوراً اس پر عمل کرنا شروع کر دے۔پس تحریک جدید کے متعلق مجھے خطبات کہنے کی اس لئے ضرورت پیش آتی رہتی ہے کہ میں چاہتا ہوں اس تحریک کو جاری کرنے اور اس کو قائم رکھنے میں دوست میرے نائب بنیں اور وہ دنیا کے خواہ کسی حصہ میں رہتے ہوں اس تحریک کو زندہ اور قائم کرتے چلے جائیں۔جس وقت ہماری جماعت میں اس قسم کے لوگ پیدا ہو گئے وہ دن ہماری کامیابی کا دن ہو گا۔اور اگر ہم پورے زور سے اس تحریک کی اہمیت ، اس کے مقاصد اور