زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 175

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 175 جلد دوم میں تبلیغ اسلام کیلئے جانے والا اگر اپنے فرائض میں کوتاہی کرتا ہے تو میرے نقطۂ نگاہ سے وہ کوئی قربانی نہیں کر رہا اِلَّا مَا شَاءَ الله - اور إِلَّا مَا شَاءَ اللہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ جن کے ذاتی حالات ایسے ہوں کہ وہ باہر جانا پسند نہ کرتے ہوں۔ایسے لوگوں کو مستی کرتے ہوئے کہ وہ بہت ہی کم ہوتے ہیں عموماً یورپین ممالک میں جانے والوں کے متعلق ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ قربانی کر رہے ہیں۔یوں تو انسان جب اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے طبعی طور پر تھوڑی دیر کیلئے اسے تکلیف ہوتی ہے۔کانووکیشن دربار میں جب بادشاہ اپنے سر پر تاج رکھوانے کیلئے جاتے ہیں تو بعض کی آنکھوں میں اُس وقت بھی آنسو آ جاتے ہیں مگر وہ آنسو عارضی ہوتے ہیں اور تھوڑی دیر کے بعد ہی وہ ہشاش بشاش ہو جاتے ہیں۔پس سوال ان آنسوؤں کا نہیں ہوتا جو روانگی کے وقت کسی شخص کی آنکھ سے ٹپکیں بلکہ سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد اس کی کیا حالت ہوتی ہے۔۔لڑکیوں کی جب شادی ہوتی ہے تو عموماً گھر سے روتی ہوئی جاتی ہیں مگر کیا کوئی کہ سکتا ہے کہ وہ قربانی کر رہی ہیں۔صرف اس لئے کہ اُس وقت ان کے غم کے جذبات ہیں۔جس وقت لڑکیوں کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں ان آنسوؤں کے پیچھے ایک تسلی بھی موجود ہوتی ہے۔اسی طرح جب کوئی مبلغ گھر سے روانہ ہو گا قدرتی طور پر اسے اپنے والدین اور رشتہ داروں کی جدائی کا غم ہو گا مگر یہ صدمہ اور غم بھی زیادہ تر اسی جگہ جانے میں ہوتا ہے جہاں جان کے متعلق کسی قسم کے خطرات ہوں۔لیکن جہاں جان کے متعلق کوئی خطرہ نہ ہو وہاں یہ صدمہ اور غم بھی بہت ہلکا ہوتا ہے اور محض اس کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ شخص قربانی کر رہا ہے۔غرض جہاں جہاں ہمارے مبلغ اس اصول کے ماتحت تبلیغ کریں گے انہیں گوا بتدا میں تکلیف ہوگی اور لوگوں سے اپنے عقائد منوانے مشکل ہوں گے مگر آخر وہ اپنا دبدبہ اور رعب قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور جو جماعت ان کے ذریعہ قائم ہوگی وہ صحیح اسلامی جماعت ہوگی۔اور اگر کسی ملک کا ہدایت پانا اللہ تعالیٰ کے حضور مقدر ہی نہیں تو ہم کون انہیں ہدایت دینے والے ہیں۔پس جو مبلغ اس وقت جا رہے ہیں ان کو بھی اور جو