زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 174

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 174 جلد دوم نہ ہوئے بلکہ آپ نے کہا تو یہ کہ بے شک زمین و آسمان میرے مٹانے کیلئے تل جائیں میں مداہنت نہیں کر سکتا۔اسی وجہ سے محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم دنیا میں قائم رہی اور با وجود اس کے کہ مسلمان بگڑ گئے آپ کی تعلیم آج تک محفوظ ہے۔لیکن اور کسی قوم کی تعلیم مکمل طور پر محفوظ نہیں۔کتنی چھوٹی سی بات ہے جس میں عیسائیوں نے تبدیلی کی کہ ہفتہ کی بجائے انہوں نے اتوار کو اپنا مقدس دن بنا لیا لیکن چونکہ ان کا قدم حضرت عیسی علیہ السلام کی لائی ہوئی تعلیم سے منحرف ہو گیا اس لئے پاؤں پھسلنے کی دیر تھی کہ پھر ان کا کہیں ٹھکانا نہ رہا۔آج ایک تعلیم کو انہوں نے چھوڑا تھا تو کل دوسری کو چھوڑ دیا اور پرسوں تیسری کو۔بالکل اُسی طرح جس طرح رسہ کشی کا جب مقابلہ ہوتا ہے تو ایک فریق میں سے کسی کا پہلے چھوٹا سا انگوٹھا ہلتا ہے۔اس انگوٹھے کے ہلنے کی دیر ہوتی ہے کہ یکے بعد دیگرے ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے تمام قدم اکھڑنے شروع ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک بھی ان میں سے رسہ کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔پس جس طرح ایک انگوٹھے کی جنبش کی وجہ سے ساری ٹیم کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں اسی طرح دینی امور میں بعض دفعہ ایک چھوٹی سی جنبش نہایت خطرناک نتائج پیدا کر دیا کرتی ہے اور در حقیقت وہی جنبش اصل چیز ہوتی ہے۔بظاہر وہ ایک چھوٹی سی جنبش ہوتی ہے اور جسم کے قلیل حصہ کی جنبش ہوتی ہے مگر ساری دنیا کا نقشہ بدل دیتی ہے۔یہی حال ہماری کوششوں کا ہے ہم میں سے بھی ایک شخص کی معمولی سی لغزش بسا اوقات اسلام کی فتح کو بہت پیچھے ڈال سکتی ہے اور اُس کی جنبش صرف اس کی ذات کیلئے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ دین کیلئے بھی نقصان رساں ہو سکتی ہے کیونکہ ساری ٹیم اس کے پیچھے بھاگتی چلی جائے گی۔پس وہ شکست اُس کی نہیں ساری قوم کی شکست ہوگی اور اس کا پھسلنا صرف اس کا پھسلنا نہیں ہو گا بلکہ ساری قوم کا پھسلنا ہوگا۔پس میں اس وقت ان مبلغوں کو بھی جو امریکہ جا رہے ہیں اور ان مبلغین کو بھی جو مغرب میں موجود ہیں بغیر کسی خاص مبلغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ مغرب