زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 176
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 176 جلد دوم پہلے سے وہاں موجود ہیں ان کو بھی میں کہتا ہوں کہ اگر وہ اسلام کی تبلیغ کرنے کیلئے مغربی ممالک میں جاتے ہیں تو انہیں اسلام کی تعلیم پر وہاں عمل کرنا چاہئے اور اسلامی عقائد ان لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے چاہئیں۔اور اگر وہ اسلامی تعلیم کی تبلیغ نہیں کر سکتے تو پھر انہیں آنے بہانے بنانے کی ضرورت نہیں۔وہ اپنے نفس کیلئے جارہے ہیں۔لذت اور سرور حاصل کرنے کیلئے جارہے ہیں۔اور یہ منافقت ہوگی اگر وہ کہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کیلئے جا رہے ہیں۔مومن صاف دل اور صاف گو ہوتا ہے اسے ہمیشہ سچی بات کہنی چاہئے اور سچی بات ہی دوسروں سے سنی چاہئے۔پھر جو آئندہ ہماری طرف سے غیر ممالک میں مبلغ جائیں خصوصاً وہ جو تحریک جدید کے بورڈنگ میں تربیت حاصل کر رہے ہیں ان کو بھی یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ یہاں سے جب بھی وہ نکلیں اس روح کو لے کر نکلیں کہ مغربیت کا مقابلہ کرنا ان کا فرض ہے۔اگر وہ یہاں سے تعلیم حاصل کر کے جاتے ہیں لیکن مغربیت کے مقابلہ میں کمزوری دکھا دیتے ہیں اور بجائے مغربیت کو کچلنے کے اس کا اثر خود قبول کر لیتے ہیں تو ان کی مثال بالکل اس شخص کی سی ہوگی جسے اپنے متعلق خیال ہو گیا کہ میں بہت بڑا بہادر ہوں اور پھر اس نے چاہا کہ اپنے بازو پر شیر کی تصویر گدوائے تا کہ اس کی نسبت عام طور پر سمجھا جائے کہ وہ بہادر ہے۔جب نائی نے شیر کی تصویر گودنے کیلئے اس کے بازو پر سوئی ماری اور اسے درد ہوا تو کہنے لگا کیا گودنے لگے ہو؟ اس نے کہا کہ شیر کی دم گود نے لگا ہوں۔اس نے کہا اچھا اگر شیر کی دم نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔وہ کہنے لگا اچھا تو دم چھوڑ دو اور کوئی اور حصہ گودو۔پھر جو اُس نے سوئی ماری تو اسے پھر درد ہوا۔کہنے لگا اب کیا گودنے لگے ہو؟ کہنے لگا دایاں کان۔اس نے پوچھا؟ اگر شیر کا دایاں کان نہ ہو تو آیا شیر رہتا ہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اچھا اسے بھی چھوڑ دو اور کوئی اور حصہ گودو۔پھر اس نے بایاں کان گود نا چاہا تو پھر اس نے روک دیا۔سرگودنا چاہا تو اسے روک دیا، یہاں تک کہ نائی نے سوئی رکھ دی اور کہنے لگا ایک حصہ نہ ہو تو شیر رہ سکتا ہے لیکن جب کوئی حصہ بھی نہ بنے تو شیر کی تصویر کس طرح بن