زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 154
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 154 جلد دوم مرنے والوں پر فخر کرتی ہے۔پس ہر وہ قوم جس میں کام کرنے کی ایسی روح پیدا ہو جاتی ہے وہ ہمیشہ آگے ہی آگے بڑھتی ہے پیچھے ہٹنا نہیں جانتی۔نپولین انگریزوں کے ہاتھ میں قید ہو گیا اور اسی قید کی حالت میں مر گیا مگر اس کی شہنشاہیت اس کی گرفتاری اور موت کے بعد ختم نہ ہوگئی بلکہ فرانس میں متحکم ہوگئی۔اور وہ روح جو نپولین کے سپاہیوں میں موجود تھی کہ ہم کو لڑنا سکھایا گیا ہے میدانِ جنگ سے بھاگنا نہیں سکھایا گیا اسی نے فرانس کی شہنشاہیت کو قائم کر دیا۔اور اب بھی جب کوئی فرانسیسی ان واقعات کو پڑھتا ہے تو اس کی چھاتی تن جاتی اور فخر سے اپنی گردن اونچی کر کے وہ کہتا ہے میں ان کی اولاد ہوں جن کو لڑنا سکھایا گیا تھا اور جو بھاگنے کے نام سے ناواقف تھے۔پس جس قوم میں کام کرنے کی روح پیدا ہو جاتی ہے وہ مر کر بھی زندہ قوم کہلاتی ہے۔اس لئے تم لوگوں کو کام کرنے کی روح پیدا کرنی چاہئے۔اس کے بعد نظام کو دیکھا جاتا ہے۔اگر صرف نظام ہو اور کام کرنے کی روح نہ ہو تو اس سے بھی کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔آجکل مسلمانوں کی کئی انجمنیں بنی ہوئی ہیں مگر ان کو کام کرنے کی چونکہ عادت نہیں اس لئے مسلمان اپنے اس نظام سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔کہیں مسلم لیگ قائم ہے، کہیں مسلم کانفرنس ہے، کہیں انجمن حمایت اسلام ہے۔مگر ان انجمنوں میں صرف پریذیڈنٹ اور سیکرٹری علیحدہ علیحدہ ہوتے ہیں باقی لوگوں کی شکلیں ایک ہی ہوتی ہیں۔جو شکلیں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں نظر آتی ہیں وہی مسلم لیگ اور مسلم کا نفرنس میں نظر آتی ہیں۔گویا ایک نظام تو ہے مگر اس سے اب تک مسلمانوں نے اس وجہ سے فائدہ حاصل نہیں کیا کہ ان میں کام کرنے کی روح نہیں۔پس دونوں چیزوں کی ضرورت ہے۔کام کرنے والی روح کی بھی ضرورت ہے اور نظام کی بھی ضرورت ہے۔اور ان کی دونوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دماغ اور ہاتھ ہوتے ہیں۔جب تک دماغ کے ماتحت ہاتھ کام کرنے والا نہ ہو اُس وقت تک دماغ کی تدابیر سے فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح ہاتھ تو ہوں لیکن دماغ نہ ہو تب بھی کام صحیح طریق پر نہیں کیا جا سکتا۔پس