زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 155
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 155 جلد دوم پہلی چیز کام کرنے کی روح ہے۔نظام کا درجہ اس کے بعد ہوتا ہے۔اور جس قوم میں یہ دونوں باتیں پیدا ہو جائیں اس کی ترقی لازمی ہوتی ہے۔کثرت وقلت کا سوال اس قوم کے لئے جس میں کام کرنے کی روح ہو اور ایک نظام کے ماتحت ہو کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔تاریخ کے مطالعہ سے یہ امر ثابت ہے کہ تھوڑے بہتوں کا سوال کام کرنے والی قوموں کی راہ میں کبھی روک ثابت نہیں ہوا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةِ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً 3 كى چھوٹی جماعتیں ہوتی ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آ جاتی ہیں۔لیکن علاوہ مذہب کے ہم دنیاوی لحاظ سے بھی دیکھتے ہیں کہ کام کرنے والی چھوٹی جماعتیں بڑی بڑی جماعتوں پر جن میں کام کرنے کی روح نہیں ہوتی غالب آجاتی ہیں۔پس تم اپنے اندر اسلام کو دنیا میں دوبارہ قائم کرنے کا مستحکم ارادہ پیدا کرو اور یہ یقین رکھتے ہوئے کہ تم نے ہی اس کام کو کرنا ہے اور یہ ہو کر رہے گا کام میں لگ جاؤ۔تم وہ ایمانی طاقت پیدا کرو کہ اگر دریا سے کہو کہ تم جاؤ تو وہ تھم جائے۔اور اگر پہاڑ سے کہو کہ ہٹ جاؤ تو ہٹ جائے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم مادی پہاڑ کو کہو تو وہ تمہارے آگے سے ہٹ جائے گا یا ظاہری دریا سے کہو تو وہ تھم جائے گا بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر تم میں حقیقی ایمان ہے تو تم پہاڑوں جیسی مشکلات کو دور کر لو گے اور دریاؤں کو عبور کر جاؤ گے۔اس وقت میری نصیحت چونکہ بچوں یعنی مدرسہ احمدیہ اور جامعہ کے طلباء کو ہے اس لئے میں ان کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر اس روح کو پیدا کریں۔اب باتیں کرنے کا نہیں بلکہ کام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔تمہیں چاہئے کہ یہ نعمت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں ملی ہے اس کے اپنے آپ کو مستحق ثابت کرو۔اس کے بعد سارے کام آسان ہو جائیں گے۔ورنہ دوسرے لوگ آ کر یہ کام کریں گے اور تم ان انعامات سے محروم رکھے جاؤ گے جن کا خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔آخر میں میں دعا کرتا ہوں ان کے لئے بھی جنہوں نے ایڈریس پیش کیا اور ان کے