زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 153

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 153 جلد دوم تمدن تو ڑا نہ جائے اُس وقت تک اسلامی تمدن کہاں رائج ہوسکتا ہے۔اسلامی تمدن کو قائم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے موجودہ تمدن کی عمارت کو توڑا جائے۔اور جب یہ عزم اور یہ روح تم میں پیدا ہو جائے اُس وقت نہ تو تمہیں خطبات دینے کی ضرورت ہوگی اور نہ لمبی تقریریں کرنے کی حاجت ہوگی کیونکہ تم میں خود کام کرنے کی ہمت پیدا ہوگئی ہو گی۔اور جب تک یہ حالت نہ ہو اُس وقت تک خطبات اور تقریریں بھی ایسی ہیں جیسے کوئی بھینس کے آگے بین بجائے۔پس میں اس وقت ان طالب علموں کو جنہوں نے ایڈریس پیش کیا ہے توجہ دلاتا ہوں کہ وہ احمدیت کا مقصد سمجھیں اور یہ سمجھ کر کہ یہ کام ہو کر رہے گا اس کے لئے جد و جہد اور کوشش کریں۔یاد رکھو جب یہ حالت تم میں پیدا ہو جائے گی اور ایک نظام کے ماتحت جد و جہد شروع کرو گے تو پھر تمہیں ہدایتیں دینے کی ضرورت نہیں رہے گی تم خود بخود کام کرتے چلے جاؤ گے۔نپولین کا ایک واقعہ ہے جب بھی میں اس کو پڑھتا ہوں میرے دل پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے۔لکھا ہے کہ نپولین نے اپنی فوج میں سے چند بہادر سپاہیوں کو چن کر اپنا باڈی گارڈ بنایا ہوا تھا۔واٹر لو کی جنگ میں جب نپولین کی فوج کو شکست ہوئی تو ایک شخص باڈی گارڈ سپاہیوں کے پاس سے گزرا۔اس نے دیکھا کہ وہ دشمن کی فوج سے جن کے پاس کافی گولہ بارود تھا صرف تلواروں سے لڑ رہے ہیں، انہیں مخاطب ہو کر کہنے لگا تم تلواروں سے کیوں لڑتے ہو؟ انہوں نے کہا ہمارے پاس گولہ بارود ختم ہو گیا ہے۔اس پر اس شخص نے کہا جب تمہارا گولہ بارود ختم ہو گیا ہے تو لڑائی کس طرح کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نپولین نے ہمیں لڑنا ہی سکھایا ہے میدان سے بھاگنا نہیں سکھایا اور یہ کہہ کر وہ باڈی گارڈ سپاہی ایک ایک کر کے ڈھیر ہو گئے مگر میدان جنگ سے نہ بھاگے۔اس طرح نپولین کی شکست فتح سے تو نہ تبدیل ہو سکی لیکن جو روح ان میں پیدا ہوگئی تھی اور جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے جانیں دیں اس نے ان کی قوم کو زندہ کر دیا اور وہ آج تک ان