زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 152

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 152 جلد دوم میں سے کتنے ہی یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ جو خدا کے وعدے ہیں وہ خود ان کو پورا کرے گا ہمیں ان کے لئے جدو جہد کی کیا ضرورت ہے۔دراصل اس قسم کا یقین یقین نہیں کہلا تا بلکہ ایک مجنونانہ بڑ ہوتی ہے۔صرف زبان سے ایک بات ماننا اور اپنے ہاتھوں سے کام نہ کرنا یقین نہیں کہلاتا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ ہے کہ وہ احمدیت کے ذریعہ تمام وہ عمارتیں جو اسلام کے مقابل پر بنائی گئی ہیں تو ڑ دے گا اور ہم جب تک اپنی کوششوں سے ان عمارتوں کو توڑ نہ دیں اُس وقت تک ہم لوگوں کے دلوں میں اسلام کی قدر و عظمت نہیں بٹھلا سکتے۔مغربیت ایک عمارت ہے جو اسلام کے مقابل پر بنائی گئی۔مشرقیت جس میں رسوم اور بدعات آگئی ہیں یہ بھی ایک عمارت ہے جو اسلام کے مقابل پر ہے۔مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو ان کو بے سود سمجھتے ہیں۔بعض لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ یہ عمارت ہمارے ہاتھ میں آجائے مگر اس طرح عمارت کی شکل تبدیل نہیں ہو سکتی۔میرے ہاتھ میں آ جانے کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ چیز میری ہو جائے اور میں اس کا مالک کہلاؤں۔مگر ہمارا مقصد پہلی عمارت کو توڑنا اور اس کی جگہ اصلی اسلامی عمارت کو قائم کرنا ہے۔یعنی پہلا حمل تو ڑ کر گرا دیا جائے اور اس کی جگہ ایک نیا محل کھڑا کر دیا جائے۔لیکن اگر محل تو ڑا نہ جائے صرف ایک کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے ہاتھ میں چلا جائے تو اس صورت میں عمارت تو وہی رہی فرق اتنا ہوا کہ ایک کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے ہاتھ میں آ گئی۔مگر کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ رسوم اور بدعات جو اسلام کی شکل کو چھپائے ہوئے ہیں تم میں آجائیں اور تم بھی انہی برائیوں کے مرتکب ہونے لگ جاؤ جن کے دوسرے مرتکب ہو رہے ہیں۔ہمارا مقصد جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے وہ ان عمارتوں کی شکلوں کو تبدیل کرنا ہے اور ان کی جگہ پر اسلامی احکام کا عمل جاری کرنا ہے۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ان عمارتوں کو جو اسلام کے مقابل پر ہیں تو ڑا جائے۔اور جب تک پہلی چیز توڑی نہ جائے اس کی جگہ دوسری چیز نہیں بن سکتی۔موجودہ زمانہ کے لحاظ سے جب تک اس کا