زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 151
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 151 جلد دوم تغیر پیدا نہیں ہوتا۔اس کی کوشش اور جدوجہد میں بظا ہر ترقی کا قدم نظر آتا ہے مگر دراصل وہ سکون ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کی وہ حرکت اندرونی نہیں ہوتی بلکہ بیرونی ہوتی ہے۔یہی حال ان لوگوں کا ہے جو ابتلاؤں کے وقت گھبراہٹ کا اظہار کرتے اور شور مچاتے ہیں۔ان کی یہ حرکت دنیا میں کسی قسم کا تغیر پیدا نہیں کرتی اور نہ ہی ان کی یہ حرکت کوئی نیک نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔اس قسم کی حرکت صرف ایک مجنونانہ فعل ہوتا ہے۔جو حرکت دنیا میں تغیر پیدا کرتی اور نیک نتیجہ برآمد کرتی ہے اس کے لئے سب سے پہلے یقین ہوا کرتا ہے۔یعنی انسان یہ سمجھے کہ یہ میرا کام ہے اور میں یہ کام کر کے رہوں گا۔جب تک اس عظیم الشان مقصد کے لئے جو ہمارے پیش نظر ہے پختہ یقین حاصل نہ ہو اُس وقت تک ہم اپنے کام میں کامیاب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی کوئی دنیا میں تغیر پیدا کر سکتے ہیں۔پس ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا ہم میں وہ یقین موجود ہے جو کسی کام میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ہونا چاہئے اور جس کے نیک نتائج رونما ہوا کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے متعلق یہ کہہ دینا کہ خدا تعالیٰ انہیں خود پورا کرے گا یقین نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ نفس کا ایک بہانہ ہے اور نفس کا جد و جہد کرنے سے عذر پیش کرنا اور اجتناب کرنا ہے۔ورنہ یقین کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے مطابق کوشش بھی کی جائے اور یہ سمجھ کر کوشش کی جائے کہ مجھے کامیاب ہونے کا یقین ہے۔جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جاتی ہے تو وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس پر وہ انعامات نازل کرتا ہے جن کا وعدہ اپنے نبی کے ذریعہ اس نے کیا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے تو اپنے وعدے پورے کرنے ہی ہیں مگر وہ قوم جس میں یقین کا مادہ نہیں ہوتا اس کے ذریعہ پورے نہیں کرتا بلکہ بعد میں آنے والی نسلوں کے ذریعہ پورے کرتا ہے۔رسول کریم سے اللہ تعالیٰ نے جو وعدے کئے تھے صحابہ کرام نے ان کے متعلق یہ نہیں کہہ دیا تھا کہ خدا تعالیٰ خود انہیں پورا کر دے گا بلکہ انہوں نے اپنے تمام اوقات اور لمحات اس کام کے لئے صرف کر دیئے اور اپنے یقین کو عملی رنگ دے کر جد و جہد شروع کر دی تھی۔مگر ہم