زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 150
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 150 جلد دوم پس ہر احمدی ان الہامات کو دیکھے اور اپنے دل میں غور کرے کہ کیا میرا اقدم الہی منشاء کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے یا نہیں۔مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو ابتلاؤں کے وقت گھبرا جاتے ہیں اور اُس کا رک کی طرح کا مینے لگ جاتے ہیں جو دریا کی لہروں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔بظاہر کا رک جدو جہد کرتا نظر آتا ہے مگر وہ جد و جہد کسی آزادی کے لئے نہیں ہوتی بلکہ وہ اُس وقت بحالت مجبوری کا نپتا اور لرزتا ہے کیونکہ کارک کی حرکت اس کے اپنے تابع نہیں ہوتی بلکہ لہروں کے تابع ہوتی ہے۔ہم میں سے بھی اکثر افراد ایسے ہیں جن کی حرکات اختیاری نہیں بلکہ غیر اختیاری ہیں اور وہ اپنے مقصود کو جو بہت بعید ہے اس چھوٹے بچے کی طرح جو چاند کو دیکھ کر پکڑنے کی کوشش کرتا ہے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اس بعد اور دوری کے سمجھنے کی جستجو ہی نہیں کرتے جو ان کے اور ان کے مقصد کے درمیان حائل ہے۔اور اگر وہ سمجھنے کی کوشش کریں تو ان کے لئے تمام وہ باتیں جنہیں وہ ناممکن خیال کرتے ہیں ممکن الحصول بن جائیں۔موجودہ زمانہ میں ہمارا کام لوگوں کے قلوب کو بدلنا ہے، دنیا کے غلط نظاموں کو بدلنا ہے، تعلیم اور تمدن کو بدلنا ہے۔غرض کہ دنیا کے سارے رنگوں کو بدل کر نیا رنگ قائم کرنا ہے اور یہ کوشش ہماری اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک کہ ساری دنیا نئی شکل اختیار نہ کرلے۔دنیا میں اگر ایک طرف یورپ کا فلسفہ تزئین اور مغربیت ہے تو دوسری طرف مشرقیت اور اس کی رسوم ہیں۔اگر ایک طرف مایوسی کا عالم ہے تو دوسری طرف دنیا کی تمام لذات حاصل کرنے والے ہیں۔اور ان دونوں کے درمیان یعنی مشرقیت اور مغربیت کے درمیان ہماری مثال ایک کارک کی سی ہے جو لہروں کے درمیان کا نپتا اور لرزتا ہے۔آپ لوگوں میں سے اکثر احباب جنہوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہوگا وہ جانتے ہوں گے کہ کارک کو لہریں گھنٹوں اوپر نیچے کرتی رہتی ہیں مگر جب لہریں اٹھنی بند ہو جاتی ہیں تو کا رک وہاں کا وہاں ہی ہوتا ہے۔اس کی تمام جدو جہد سے اسے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا۔اس کی تمام سعی لا حاصل ہوتی ہے اور اس تمام جد و جہد اور سعی سے کسی قسم کا