زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 10

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 10 جلد دوم کے مبلغ کو انگلستان میں۔اگر ہمارے مبلغ عربی اچھی طرح بول اور لکھ سکیں پھر انگریزی اچھی طرح بول اور لکھ سکیں تو جہاں جائیں گے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔اب تک یہ خیال پایا جاتا ہے کہ یورپین علوم پڑھنے سے انسان دین سے کھویا جاتا ہے اور جس نے دینی علوم پڑھے وہ عقل سے کھویا گیا۔مگر ہم نے بتانا ہے کہ یہ میچ نہیں ہے۔دینی اور د نیوی علوم دونوں ایک جگہ جمع ہو سکتے ہیں۔میٹھا اور کڑوا پانی اسی طرح ملایا جائے گا۔ولایت کی کیمرج اور آکسفورڈ کی یونیورسٹیاں پادریوں کی قائم کی ہوئی ہیں۔لیکن کیمرج کی یونیورسٹی میں جہاں نئے خیالات کے لوگوں کا زور ہے وہاں سے دہریت اور لا مذہبی کی رونکلتی ہے۔لیکن آکسفورڈ کی یونیورسٹی جو پرانی یو نیورسٹی ہے وہاں سے جو لوگ تعلیم پاتے ہیں ان کے دل میں عیسائیت کی محبت ہوتی ہے۔کیونکہ ان کے دل میں مذہب کی محبت ڈالی جاتی ہے۔لندن میں میں نے دیکھا مصباح الدین صاحب ایک شخص کو لائے جود ہر یہ تھا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ عیسائیت کا دشمن تھا حضرت مسیح سے اسے محبت تھی۔اسی طرح فری تھنکر مذہبی طور پر حضرت مسیح کو برا بھلا کہیں گے مگر مذہبی جلسوں میں شریک ہوں گے اور ان میں حصہ لیں گے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پادری استادوں نے ان کے دلوں میں مذہب کی ایسی محبت قائم کر دی ہے کہ دہر یہ ہونے کی حالت میں بھی وہ ان کے دل سے نہیں نکلتی۔اس رنگ میں دنیوی تعلیم دینا ایسی خوبی ہے کہ اس کی نقل کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں کیونکہ خو درسول کریم ﷺ نے یہ بات سکھائی ہے۔بدر کی جنگ میں جو قیدی پکڑے آئے تھے ان کے متعلق رسول کریم ﷺ نے یہی شرط رکھی تھی کہ مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں تب آزاد کئے جائیں گے۔2 اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ نے دنیوی علوم کا سیکھنا بھی ضروری قرار دیا ہے۔حضرت مسیح نے تو اس کے لئے کوئی مدرسہ قائم نہ کیا تھا لیکن رسول کریم ﷺ نے قائم کیا۔پس ہم نقل صلى الله کریں گے تو رسول کریم ﷺ کی کریں گے۔ہاں یہ افسوس ضرور ہے کہ عیسائیوں نے ہم سے پہلے اس بات کو اختیار کیا۔مسلمانوں نے اپنی بدقسمتی سے اس بات کو بھلا دیا اور اب