زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 11

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 11 جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے آ کر قائم کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز عمل دیکھ لو۔آپ نے پہلے مدرسہ ہائی قائم کیا اور پھر مدرسہ احمدیہ۔اس طرح آپ نے یہ قرار دیا کہ دنیوی تعلیم نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہاں ایسے لوگوں کے ذریعہ دلائی جانی چاہئے کہ دوسروں میں جو نقائص پیدا ہوتے ہیں وہ دور ہو جائیں۔اس وقت جس سکیم کا میں نے ذکر کیا ہے اس کا نقشہ ایسا ہی ہے جیسے خواب کے بعد خواب کا منظر آنکھوں کے سامنے پھرتا ہے مگر یہ خوشکن منظر ہے۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو کئی کالج اور یونیورسٹیاں ہم قائم کر سکیں گے۔ان کے لئے ہمارے پاس ایسے علماء مہیا ہوں گے جو دینی اور دنیوی علوم کے ماہر ہوں گے۔اور وہ مضرات جو دوسری جگہ پیدا ہوتے ہیں ہمارے ہاں پیدا نہیں ہو سکیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ جو مبلغ اس سکیم کے ماتحت جائیں گے وہ اس مقصد کو جو خواہ ابھی دور کا ہی مقصد ہے مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کے اوقات صرف کریں گے۔پھر ان کو میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ احمدیہ کی بنیاد روحانیت پر ہے۔دوسرے لوگ ہمارے علماء کے متعلق بے شک اچھی رائے رکھتے ہیں مگر میرا تجربہ ہے کہ جو نئے علماء نکل رہے ہیں ان کی تقریر اور تحریر کا رنگ وہ نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رنگ ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی نقل نہیں کرتے جیسی کہ کرنی چاہئے۔ہمارے علماء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز تحریر مد نظر رکھنا چاہئے جو سنجیدگی سے پُر ہے۔اس میں اگر کوئی ہنسی کی بات بھی آتی ہے تو اس میں بھی سنجیدگی ہوتی ہے۔ہمارے علماء کو خصوصا نو جوان علماء کو چاہئے کہ اپنی تقریر اور تحریر کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریروں کے مطابق بنائیں۔اور خوب یا درکھیں که خالی علم کچھ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ وہ تباہی کا موجب ہوتا ہے۔علم یہ نہیں کہ معلوم ہو یہ تغیر ہو گیا بلکہ یہ ہے کہ تغیر کرنے والی ہستی کی حقیقت معلوم ہو۔اگر اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کی حقیقت منکشف نہیں ہوتی تو سمجھ لینا چاہئے کہ علم حاصل نہیں کیا بلکہ جہالت ہے علم اللہ تعالیٰ