زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 9
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 9 جلد دوم کے لوگوں کے خیالات سے واقف ہوں۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ایک ملک میں ایک مبلغ کو بھیجا جائے۔جب وہ وہاں کی زبان سیکھ لے تو دوسرے کو وہاں بھیج دیا جائے اور پہلے کو کسی اور ملک میں تبدیل کر دیا جائے تا کہ وہاں کی زبان سیکھ لے۔اس طرح باری باری علماء کو بھیج کر مختلف زبانوں کا ماہر بنایا جائے۔اور ہر ملک کے لوگوں کے اسلام پر اعتراضات سے آگاہ کیا جائے۔مثلاً جب ایک مبلغ انگلستان کے حالات اور وہاں کی زبان سے واقف ہو جائے تو چھ ماہ یا سال کی چھٹی دلا کر اسے جرمنی بھیج دیا جائے تا کہ وہاں کی زبان سیکھ لے۔انگریزی کے بعد دوسرے ممالک کی زبانیں سیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔اسی طرح جو مبلغ عربی ممالک میں بھیجا جائے اسے جب عربی کی مشق ہو جائے تو انگریزی کی مشق کے لئے ولایت بھیج دیا جائے۔اسی طرح اگر ہمارے علماء عربی، انگریزی اور جرمن میں گفتگو اور تقریر کر سکتے ہوں تو ان کے خیالات زیادہ منجھے ہوئے ہوں گے۔وہ بہت زیادہ دنیا کے خیالات سے واقف ہوں گے اور ان سے ہمیں آگاہ کر لیں گے تاکہ ہم اسلام کی حفاظت کا بہترین طریق اختیار کر سکیں۔اسی طرح مختلف ممالک کا طرز تحریر بھی جدا گانہ ہے۔اگر اس کا لحاظ نہ رکھا جائے تو ساری کوشش رائیگاں جاتی ہے۔مثلاً یورپ میں جو کتابیں لکھی جاتی ہیں ان کے باب وغیرہ اور رنگ میں باندھے جاتے ہیں لیکن یہاں اور رنگ میں۔یہاں کی طرز تحریر کے مطابق لکھی ہوئی کتاب جب وہاں جائے گی تو وہ لوگ کہیں گے کسی نا واقف کی لکھی ہوئی ہے۔لیکن وہاں کا اگر کوئی شخص یہاں کی کتاب لکھنے والے سے علم میں کم بھی ہو تو اس کی کتاب سے شور پڑ جائے گا کیونکہ وہ اپنی کتاب کی ترتیب اس رنگ میں رکھے گا جو وہاں رائج ہے۔ہمارے علماء یورپ کے طرز تحریر سے واقف ہو کر ایسی کتابیں لکھ سکیں گے جو انشاء اللہ مفید ثابت ہو سکیں گی۔اس سکیم کی ابتدا کے طور پر ایک طرف مولوی محمد یار صاحب کو اور دوسری طرف مولوی اللہ دتا صاحب کو بھیجا جا رہا ہے۔ہوسکتا ہے اگلی دفعہ اس مبلغ کو جو ولایت بھیجا گیا عربی ممالک مصر اور شام وغیرہ میں بھیج دیا جائے اور وہاں