زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 8
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 8 جلد دوم کیونکہ ہر کام کا وقت ہوتا ہے۔حضرت علیؓ سے کسی نے پوچھا ربانی کون ہوتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا الَّذِي يُرَبِّي صِغَارَ الْعِلْمِ قَبْلَ كِبَارِهَا 1 کہ وہ جو علوم کے چھوٹے حصے پہلے سکھاتے ہیں بڑے بعد میں۔میری سکیم یہ تھی کہ آہستہ آہستہ وہ ملک جہاں یورپین زبانیں بولی جاتی ہیں ان میں ہمارے علماء جائیں اور تبلیغ کریں۔بے شک شروع میں وقتیں ہوں گی اور انہی دقتوں کی وجہ سے اس سکیم پر عمل کرنے میں دیر لگی لیکن اب وقت آ گیا ہے کیونکہ جو علماء نکل رہے ہیں ان کا بیشتر حصہ ایسا ہے جس نے کچھ نہ کچھ انگریزی پڑھ لی ہے۔بعض نے تو انٹرنس کا امتحان پاس کر لیا ہے اور بعض نے اپنے طور پر سنڈی کی ہے ہے۔اب موقع ہے کہ اس سکیم کو جاری کیا جائے۔وہ سکیم کیا ہے؟ یہ کہ صحیح خیال دو طرح پیدا ہو سکتا ہے۔یا تو براہ راست اللہ تعالیٰ کے الہام سے یا تجربہ سے۔اور جب تک دشمن کے خیالات معلوم نہ ہوں اس کے اعتراضات کے جواب نہیں دیئے جا سکتے۔اور ہمارے مخالف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں ہیں۔ہندوستان کے مخالف تو عام طور پر جاہل ہیں۔ان کے خیالات پر اپنے علم کی بنیاد رکھنا غلطی ہوگی۔مثلاً کفارہ کا مسئلہ ہے۔یہاں کے عیسائی تو جاہلانہ طور پر اسے پیش کرتے ہیں لیکن یورپ کے لوگ فلسفیانہ رنگ میں اس کے متعلق مضامین لکھتے ہیں۔وہ فلسفہ اور منطق نہیں جو ہندوستان کے جاہل عیسائی پیش کرتے ہیں۔منطق اور فلسفہ یہ نہیں کہ کوئی بات ہی نہ سمجھ سکے بلکہ یہ ہے کہ وہی مطالب جو روزانہ استعمال کرتے ہیں انہیں محدود کر کے پیش کیا جائے۔دنیاوی علوم کی ترقی مغربی ممالک میں ہو رہی ہے۔وہاں جس رنگ میں اسلام پر اعتراض کئے جاتے ہیں وہ جدا گانہ ہے۔مختلف ممالک کی زبانیں پڑھ لینے سے بھی ان اعتراضوں سے واقفیت نہیں ہو سکتی۔اصل اور پوری واقفیت وہاں جا کر لوگوں سے ملنے سے ہو سکتی ہے۔پھر کسی ایک ملک میں جا کر نہیں ہو سکتی ہر ملک میں اعتراضات کا علیحدہ رنگ ہے۔مثلاً عربی کے متعلق جرمنی کے ایک شخص نولڈ کے نے سب سے پہلے تنقید کی۔مگر اس کی کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ نہیں ملتا۔تو سکیم یہ ہے کہ آہستہ آہستہ نئے علماء مختلف زبانیں سیکھیں اور مختلف ممالک