زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 134 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 134

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 134 جلد دوم الْآلِهَةَ کے الفاظ بتاتے ہیں ان کے نفس کے گوشہ گوشہ میں یہ بات جم چکی تھی کہ اس میں شک وشبہ کی کوئی بات ہی نہیں کہ معبود کئی ہیں اور یہ نعوذ باللہ ایسا بیوقوف ہے کہ اس نے سب کو کوٹ کاٹ کر ایک اللہ بنا دیا ہے۔وہ کہتے بھلا ایسی حماقت کی بات بھی کوئی اور ہوسکتی ہے۔مکہ والے جو یہ یقین رکھتے تھے کہ الہ کئی ہیں وہ اس حقیقت کو سن کر کہ خدا تو ایک ہی ہے کتنے ہنستے ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں اس بات کو سن کر ہنستے ہنستے مکہ والوں کی پسلیوں میں بل پڑ جاتے ہوں گے۔مگر اس کا نتیجہ یہ تو نہ نکلا کہ رسول کریم ﷺ نے معذرت کرنی شروع کر دی کہ الہ ہیں تو پانچ ہیں تو تین ، ہیں تو دونگ دیکھو بعض مصلحتیں ہوتی ہیں ان کی بناء پر ایسی باتیں کہنی ہی پڑتی ہیں۔بلکہ آپ نے علی الاعلان فرمایا کہ اگر سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں بھی لاکر رکھ دو تو میں تمہاری بات ماننے کے لئے تیار نہیں بلکہ تم سے یہ منواؤں گا کہ خدا ایک ہی ہے 2۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں۔اگر اسلام کا ایک مسئلہ بھی غلط ہے یا اس کا ایک مسئلہ بھی پالش کا مستحق ہے تو پھر اسلام جھوٹا ہے اور بہتر ہے کہ ہم اسے چھوڑ دیں۔اور اگر اسلام سچا ہے تو پھر دنیا جو اس پر اعتراض کرتی ہے پاگل ہے اور پاگلوں کے ڈر کے مارے ہم حق بات کو کیوں چھوڑ دیں۔پاگل کا علاج یہ نہیں کہ ہم اس سے ڈر کر حقیقت کو چھپائیں بلکہ یہ ہے کہ پاگل کا پاگل پن دور کریں۔مگر قدرتی طور پر چونکہ مغربی ممالک میں اس قسم کی باتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اس لئے مغربی تبلیغ کے متعلق جماعت کو ہر وقت بیدار رہنا چاہئے۔اس کی نگرانی رکھنی چاہئے اور ہر وقت دیکھتے رہنا چاہئے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔کس طریق پر کام ہو رہا ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔اس وقت مغربی تبلیغ کے نتیجہ میں جو چیز ہمیں مل رہی ہے وہ یہ شہرت ہے کہ احمدی جماعت کام کر رہی ہے اور یہ فائدہ ہے کہ جماعت کی مخالفت لوگ انتہائی سختی سے نہیں کر سکتے۔کیونکہ اس کی شہرت ایسے ممالک میں بھی ہو چکی ہے جن سے دنیا مرعوب ہے۔گویا اس تبلیغ سے اس وقت ہمیں سیاسی اور تمدنی طور پر فائدہ پہنچ رہا ہے مذہبی لحاظ سے نہیں۔گو ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی قوم ایسی نہیں جو خدا تعالیٰ کے پیغام کے قبول