زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 135

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 135 جلد دوم کرنے کی استطاعت اپنے اندر نہ رکھتی ہو اور یقیناً جو کام پیچھے نہیں ہواوہ آج ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیغام کے اہل مغرب ویسے ہی مستحق ہیں جیسے مشرقی۔کیونکہ ہمیں جو تعلیم ملی ہے اس کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ 3 ہے۔اس لئے ہمارے لئے جھجکنے کی کوئی وجہ نہیں۔پس وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ مغرب میں تبلیغ اسلام کی کیا ضرورت ہے وہ میرے نقطہ نگاہ سے ویسے ہی بے وقوف ہیں جیسے وہ لوگ جو مغرب میں تبلیغ کرتے وقت اسلامی احکام کے متعلق معذرتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ان دونوں نے اسلام کی طاقت اور اس کی قوت کو نہیں پہچانا۔جن لوگوں کے نزدیک مغرب اس بات کا اہل ہی نہیں کہ خدائی احکام پر عمل کرے انہوں نے قرآن مجید کی طاقت کو نہیں سمجھا۔اور جو لوگ مغربی طاقت اور اس کی شوکت سے مرعوب ہو کر اسلامی تعلیم کے متعلق معذرتیں کرنے لگ جاتے ہیں انہوں نے اسلامی تعلیم کو نہیں پہچانا۔اگر وہ تعلیم جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام نے قرآن مجید سے اخذ کر کے دنیا میں پیش کیا ہے درست ہے اور اگر “ کا یہ لفظ تو میں نے فرض کے طور پر استعمال کیا ہے ورنہ اس میں شبہ ہی نہیں کہ وہ درست ہے تو یقیناً وہ کامیاب ہو کر رہے گی۔اور ان دونوں گروہوں سے اصل تعلیم احمدیت کو جنگ کرنی پڑے گی۔کیونکہ یہ دونوں گروہ ایسے ہیں جو اپنے اپنے دائرہ میں مایوس ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ایک مثبت میں مایوسی کا اظہار کرتا ہے اور دوسرا نفی میں۔ایک کہتا ہے مغرب اسلام قبول کر ہی نہیں سکتا اسے چھوڑ دو۔دوسرا کہتا ہے اس کے سامنے اسلامی تعلیمیں پیش کرنا تو ضروری ہے مگر بعض احکام پر وہ عمل نہیں کر سکتے اس لئے انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔اور یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس کے دفعیہ کے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ اور اس کے نوٹس جلد سے جلد شائع ہوں۔اگر ہم قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کے نوٹس کو مکمل کر دیں تو اس فتنہ کے راستہ کو بہت حد تک مسدود کر سکتے ہیں۔اگر ہمارے ترجمہ قرآن کریم میں اسلامی احکام پر خوب زور دیا جائے اور ان تمام مسائل کے متعلق جن کے بارے میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ ہمارے مبلغ ان کو بیان کرنے میں ا