زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 133
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 133 جلد دوم استعمال کرنے چاہئیں جو محتاط ہوں کیونکہ کفر کا لفظ ایسا ہے جسے انسان اپنے لئے گالی سمجھتا ہے۔پس اس مسئلہ کے بیان کرنے میں اگر ہم احتیاط سے کام لیتے ہیں تو یہ اعلیٰ اخلاق کا اظہار ہو گا کمزوری نہیں کہلائے گی۔کیونکہ حقیقت اس کے ساتھ ہوتی ہے۔کئی جگہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں آپ ہمیں کا فر کہتے ہیں؟ میں کہتا ہوں آپ اپنے آپ کو کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں مسلمان۔میں کہتا ہوں جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو میں اسے مسلمان کہتا ہوں۔پھر میں پوچھتا ہوں آپ یہ بتائیں کیا غیر احمدیوں میں حقیقت اسلام موجود ہے؟ وہ کہتے ہیں نہیں۔میں کہتا ہوں یہی میرا عقیدہ ہے۔نام کے لحاظ سے جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے ہم بھی اسے مسلمان کہتے ہیں لیکن آپ بھی مانتے ہیں کہ مسلمانوں نے حقیقت اسلام کو چھوڑ دیا ہے اور میں بھی کہتا ہوں کہ انہوں نے حقیقت اسلام کو ترک کر دیا ہے۔اور جب میں حضرت مرزا صاحب کو راستباز مانتا اور آپ کی صداقت کا قائل ہوں تو میں یہ کس طرح تسلیم کر سکتا ہوں کہ حقیقت اسلام آپ کو قبول نہ کرنے والوں میں بھی پائی جاسکتی ہے۔اس احتیاط کے اختیار کرنے کی ضرورت یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کا فروہ ہوتا ہے جو رسول کریم ﷺ کا منکر ہو اور آپ پر حملہ کرے۔اب ایک مسلمان ایسے لفظ کو یقینا گالی سمجھے گا۔پس ایسے موقع پر جہاں احتمال ہو کہ دوسرا شخص ہمارے الفاظ کو گالی سمجھے گا ایسے الفاظ استعمال کر لینے جن سے حقیقت بھی واضح ہو جائے اور دوسرے کا دل بھی نہ دکھے جائز ہے۔مگر عام مسائل کے متعلق جب انسان ایسا رویہ اختیار کر لیتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ دوسری قوم سے تأثر اختیار کر رہا ہے۔صلى الله جن باتوں میں یورپ سے ہمیں اختلاف ہے اس سے کم اختلاف رسول کریم ہے کا مکہ والوں سے نہ تھا۔آپ بھی جب مشرکینِ مکہ کے سامنے کہتے کہ خدا ایک ہے تو وہ اس عقیدہ کو ( نعوذ باللہ ) ایسا ہی احمقانہ سمجھتے تھے جیسے یورپ والے پر دہ اور تعدد ازدواج کے مسائل کو آج سمجھتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔چنانچہ قرآن کریم میں ان کی طرف سے ان الفاظ میں حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ اَجَعَلَ الْأَلِهَةَ الهَا وَاحِدًا - 1 أَجَعَلَ