زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 7

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 7 جلد دوم دیکھو کولمبس نے جب امریکہ دریافت کیا تو کتنا بڑا تغیر پیدا ہو گیا۔مگر جب امریکہ دریافت ہو گیا تو بعض لوگوں نے کہا یہ کون سی بڑی بات ہے۔ہم جہاز پر بیٹھ کر ادھر۔جاتے تو ہم بھی دریافت کر لیتے۔جب یہ بات کو لمبس تک پہنچی تو اس نے ایسے لوگوں کو بلا یا اور میز پر ایک انڈا رکھ کر کہا کسی طرح بغیر سہارے کے اسے کھڑا کر دو۔ان سب نے بہت کوشش کی مگر کوئی کھڑا نہ کر سکا۔آخر کولمبس نے انڈا لیا، پن مارکر اس میں سے لعاب نکالا اور اس کے ذریعہ انڈا کھڑا کر دیا۔یہ دیکھ کر سب نے کہا یہ تو ہم بھی کر سکتے تھے۔کولمبس نے کہا پھر کیوں نہ کیا؟ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا میں نے سنا ہے تم لوگ کہتے ہو ہم بھی امریکہ دریافت کر سکتے تھے۔امریکہ دریافت کرنے کا تو تمہیں موقع نہ ملا۔انڈا کھڑا کرنے کا تو موقع مل گیا تھا پھر اسے کیوں نہ کھڑا کر سکے۔اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی کام ہو جاتا ہے تو آسان معلوم ہونے لگتا ہے۔لیکن اس کے ہونے سے قبل اس کے کرنے کا طریق نکالنا مشکل ہوتا ہے۔دیکھ لوگ روزانہ گھروں میں ہانڈی پکاتے اور ہانڈی ابلتی دیکھتے تھے مگر یہ دیکھ کر انجن کسی نے نہ بنالیا۔آخر ایک شخص نے جب اس پر غور کیا وہ انجن بنانے میں کامیاب ہو گیا۔پس بعض باتیں معمولی ہوتی ہیں مگر عظیم الشان تغیر پیدا کر دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسلام کی رائج الوقت تعلیمات میں ایسا تغیر کیا ہے کہ اصل تعلیم قائم کر دی ہے۔اور اس تعلیم کو وہی لوگ دنیا میں پھیلا سکتے ہیں جنہیں سلسلہ احمد یہ تیار کرے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مدرسہ احمدیہ کے قائم کرنے کی تائید کی تھی۔کیونکہ جب تک کسی فن کے ماہر نہ ہوں اس کی باریکیوں تک نہیں جاسکتے۔خدا کے فضل سے ہمارے علماء دوسرے علماء پر ہر رنگ میں غالب آ رہے ہیں۔اور مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ احمدی علماء میں غیر احمدی علماء کی نسبت بہت فرق ہے۔احمدی علماء کا ذہن رسا ، ان میں دین کے لئے جوش اور خدمتِ اسلام کی خواہش ہے۔وہ اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔اسی خیال کے ماتحت میں نے مدتوں سے ایک سکیم سوچی ہوئی تھی جس کی اب ابتدا کی گئی ہے۔