زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 6
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 6 جلد دوم ہیں جو رسول کریم ﷺ لائے تھے۔دوسرے لوگوں کے پاس صرف الفاظ رہ گئے ہیں دل میں روح نہیں۔اس لئے یہ غلط ہے کہ ہمیں نئے علماء پیدا کرنے کی ضرورت نہیں۔ضرورت ہے اور بہت بڑی ضرورت ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہی فرمایا کہ آپ ہر مسئلہ کی تجدید کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہی حق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے ایسے علوم عطا کئے ہیں کہ روحانی اسلامی علوم کا کوئی حصہ نہیں جس کے متعلق یہ کہ سکیں کہ اس میں آپ نے تجدید نہیں کی۔ہر علم میں آپ نے تجدید کی ہے۔یہ اور بات ہے کہ ہم اس کی قدر کریں یا نہ کریں۔بعض وہ لوگ جو بعد میں آئے انہیں آپ کی حقیقی قدر نہیں۔وہ سمجھتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت معمولی بات ہے۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ دنیا میں کس قدر عظیم الشان تغیر آپ کی ایک ایک بات سے پیدا ہو رہا ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا بعض مسائل ایسے ہیں جو طبائع کے لحاظ سے کئی طریق پر عمل میں لائے جاتے ہیں جیسا کہ آمین کہتا ہے۔بعض جو شیلی طبائع ہوتی ہیں وہ آمین بالحجر کہتی ہیں۔بعض نرم طبائع ہوتی ہیں وہ آہستہ کہتی ہیں۔اسی طرح نماز پڑھنے کے وقت ہاتھ باندھنے کا مسئلہ ہے۔کوئی او پر ہاتھ باندھتا ہے کوئی نیچے۔تو فرمایا فقہ کے بعض جھگڑے بالکل لغو ہیں۔مختلف طبائع کے لحاظ سے بعض اعمال میں اختلاف ہو جانا کوئی معیوب بات نہیں۔اب دیکھو یہ اصل بیان کر دینے کے بعد حنفیوں اور اہلحدیثوں کے اس قسم کے جھگڑے خود بخود مٹ رہے ہیں اور اس بارے میں بہت بڑا تغیر واقع ہو رہا ہے۔یه تغیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد سے ہی پیدا ہوا۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا وہ معمولی بات ہے تو یہ غلط ہے۔اس بات کی اہمیت کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے پہلی حالت دیکھی یا اس کا صحیح طور پر اندازہ کر سکتے ہیں۔بعد میں آنے والے جنہیں معلوم نہیں کہ ان اختلافات کی وجہ سے کیسے کیسے جھگڑے ہوئے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بات کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔