زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 113

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 113 جلد دوم ذلیل سمجھا جاتا ہے مگر ایک وقت ہر انسان کو خود یہی کام کرنا پڑتا ہے۔ایسا ہی یہ کام ہے کہ دوسرے ہم پر پاخانہ پھینکتے ہیں اور ہم اسے دور کرتے ہیں۔کوئی شخص اولا د اس لئے نہیں پیدا کرتا کہ اس کی طہارت کرے۔مگر طہارت کا کام والدین کو کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح ہمارا یہ مقصد نہیں کہ علماء مباحثات کے لئے پیدا کریں بلکہ علماء کی غرض یہ ہے کہ وہ آفیسرز کی طرح ہوں جو اپنے ارد گرد فوج جمع کریں اور اس سے کام لیں۔یا اس کی گڈریے کی طرح جس کے ذمہ ایک گلے کی حفاظت کرنا ہوتی ہے۔اور یہ کام دس ہیں مبلغ بھی عمدگی سے کر سکتے ہیں۔جب تک ہمارے مبلغ یہ نہ سمجھیں اُس وقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔مبلغ کے معنے وہ یہ سجھتے ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرنے والا۔مگر صرف یہ معنے نہیں بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ غیروں کو مخاطب کرانے والا۔رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر کون مبلغ ہو سکتا ہے مگر آپ کس طرح تبلیغ کیا کرتے تھے؟ اس طرح کہ شاگردوں سے کراتے تھے۔صحابہ میں آپ نے ایسی روح پھونک دی کہ انہیں اُس وقت تک آرام نہ آتا تھا جب تک خدا تعالیٰ کی باتیں لوگوں میں نہ پھیلا لیں۔پھر صحابہ نے دوسروں میں یہ روح پھونکی اور انہوں نے اوروں میں اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہا۔حتی کہ مسلمانوں نے اس بات کو بھلا دیا۔تب خدا تعالیٰ نے اس روح کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔اس طرح بھی رسول کریم ﷺ ہی تبلیغ کر رہے ہیں۔پس علماء کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ پیدا کریں جو دوسروں کو تبلیغ کرنے کے قابل ہوں۔وہ خدمت گزاری اور شفقت علی الناس کا خود نمونہ ہوں اور دوسروں میں یہ بات پیدا کریں۔مگر عام طور پر مبلغ لیکچر دے دینا یا مباحثہ کر لینا اپنا کام سمجھتے ہیں۔اور خیال کر لیتے ہیں کہ ان کا کام ختم ہو گیا۔اس کا ایک نتیجہ تو یہ ہو رہا ہے کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ علماء بیکار رہتے ہیں۔بات اصل میں یہ ہے کہ تقریر کرنے یا مباحثہ کرنے کے بعد مبلغ کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ کچھ آرام کرے۔کیونکہ بولنے کا کام مسلسل بہت دیر