زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 112

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 112 جلد دوم يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 2 اور دوسری طرف فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ 3 سارے مومنوں کا فرض ہے کہ دعوت الی الخیر کریں۔تو ایک خاص جماعت کا ہونا ضروری ہے اور یہ لازمی چیز ہے۔کوئی فوج اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کا ایک حصہ خاص کام کے لئے مخصوص نہ ہو۔اور تمام نیچر میں یہی بات نظر آتی ہے کہ ایک ذرہ مرکزی ہوتا ہے۔مذہبی تبلیغ کے لئے بھی ایک ایسا مرکز ہونا چاہئے جو اپنے ارد گرد کو متاثر کر سکے اور دوسروں سے صحیح طور پر کام لے سکے۔یہی غرض مبلغین کی ہے۔لیکن عام طور پر خود مبلغین نے بھی ابھی تک اس بات کو نہیں سمجھا۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ احمدیت کے سپاہی ہیں اور کام انہیں خود کرنا ہے۔مگر جو یہ سمجھتا ہے وہ سلسلہ کے کام کو محدود کرتا ہے۔ہم خدمت دین کے لئے کس قدر مبلغ رکھ سکتے ہیں۔اس وقت ساٹھ ستر کے قریب کام کر رہے ہیں جن کا جماعت پر بہت بڑا بوجھ ہے اور چندے کا بہت بڑا حصہ ان پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔مگر وہ کام کیا کرتے ہیں۔اگر کام کرنے والے صرف وہی ہوں تو سلسلہ کی ترقی بند ہو جائے۔ان کے ذریعہ سال میں صرف دو تین سو کے قریب لوگ بیعت کرتے ہیں۔اور باقی جن کی تعداد کا اندازہ دس بارہ ہزار کے قریب ہے جماعت کے لوگوں کے ذریعہ احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔رہے مباحثات جو مبلغین کو کرنے پڑتے ہیں یہ اسی وقت تک ہیں جب تک ہمارے ملک کے لوگوں کے اخلاق کی اصلاح نہیں ہوتی۔مباحثات پبلک کے اخلاق کی خرابی کی وجہ سے کرنے پڑتے ہیں۔جس طرح ہمارے ملک میں لوگ مرغبازی اور بٹیر بازی کے عادی تھے جسے قانون نے ایک حد تک روک دیا ہے۔وہ مولوی بازی کے بھی عادی ہیں۔ایک مولوی ادھر کھڑا ہو جاتا ہے ایک ادھر۔ایک دوسرے کو چونچیں مارتے ہیں اور پبلک یہ تماشہ دیکھ کر خوش ہوتی ہے۔یہ دراصل گرے ہوئے اخلاق کا مظاہرہ ہوتا ہے اور یہ ہمارے لئے ایسا ہی ہے جیسا کہ طہارت کے لئے جانا پڑتا ہے۔چوہڑے کے کام کو