زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 114

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 114 جلد دوم تک نہیں کیا جا سکتا۔بولنے میں زور لگتا ہے اور تقریر کے بعد انسان نڈھال ہو جاتا ہے۔مبلغ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر روز کئی کئی گھنٹے تقریر کرے۔اگر کوئی ایسا کرے تو چند ماہ کے بعد اسے سل ہو جائے گی اور وہ مرجائے گا۔پھر روزانہ کہاں اس قدر لوگ مل سکتے ہیں جو اپنا کام کاج چھوڑ کر تقریریں سننے کے لئے جمع ہوں۔پس یہ کام چونکہ ایسا نہیں جو مسلسل جاری رہ سکے اس لئے لوگوں کو شکایت پیدا ہوتی ہے کہ مبلغ فارغ رہتے ہیں حالانکہ ان معاملات میں ان کا فارغ رہنا قدرتی امر ہے۔دراصل انہوں نے اپنے فرض کو سمجھا نہیں۔وہ کہہ دیتے ہیں جب ہمارے پاس کوئی آیا ہی نہیں تو ہم سمجھائیں کسے۔اس وجہ سے ہم فارغ رہتے ہیں۔لیکن اگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے کہ ان کا کام صرف تقریر کرنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کے اخلاق کی تربیت کرتا ہے ، انہیں تبلیغ کرنے کے قابل بنانا ہے اور پھر وہ اپنا تصنیف کا شغل ساتھ رکھیں۔جہاں جائیں لکھنے پڑھنے میں مصروف رہیں۔کوئی ادبی مضمون لکھیں۔کسی مسئلے کے متعلق تحقیقات کریں۔ضروری حوالے نکالیں۔تاریخی امور جمع کریں تو پھر ان کے متعلق یہ نہ سمجھا جائے کہ وہ فارغ رہتے ہیں۔یہ تاریخی مختلف کام ہیں جن کی طرف ہمارے مبلغین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کوئی مبلغ کہیں جاتا اور وہاں تصنیف کا شغل بھی جاری رکھتا تو لوگ یہ نہ کہتے کہ وہ فارغ رہا۔بلکہ یہی کہتے کہ لکھنے میں مصروف رہا۔مگر مبلغین کو اس طرف توجہ نہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ تصنیف کا کام نہیں ہو رہا۔ممکن ہے اس وقت بھی یہاں بعض مبلغ ہوں۔مگر دعوت چونکہ ان کی طرف سے ہے جو آئندہ مبلغ بننے والے ہیں اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ وہی طریق اختیار نہ کریں جو ان سے پہلوں نے کیا اور جس کی وجہ سے 9 حصے کام ضائع ہوا اور صرف ایک حصہ ہو رہا ہے۔اس طرح جماعت کی ترقی نہیں ہوسکتی۔کیونکہ جو مبلغ اپنے اوقات کی حفاظت نہیں کرتے اور انہیں صحیح طور پر صرف نہیں کرتے وہ جماعت کے لئے ترقی کا موجب نہیں بن سکتے۔جو لوگ آئندہ مبلغ بننے والے ہیں وہ اپنے اوقات کی پوری طرح حفاظت کرنے کا تہیہ کریں۔