زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 105
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 105 جلد دوم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔اس اعتراض کا جو جواب مولوی محمد یار صاحب نے دیا ہے وہ جواب بھی نہایت لطیف ہے۔لیکن ایک اور بات یہ بھی یادر ہے کہ جب مبلغ کے سامنے یہ سوال پیش ہو تو اسے کہہ دینا چاہئے کہ میں تو انسان ہوں میرا تعلق خدا تعالیٰ سے ہے۔ہم خدا کی محبت کو اور دیانت اور امانت کو دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی مسلمان یا ہندو یا عیسائی کیا کرتا ہے۔ہاں اس سے ضرور مجھے غرض ہے کہ لوگ دیانت اور امانت پر چلیں۔میں مسلمانوں کو اس امر کی تاکید کرتا ہوں کہ اسلام کے احکام پر عمل کریں اور عیسائیوں سے کہتا ہوں کہ انجیل پر عمل کریں۔اور اگر ہر دو تو میں اسی طرح کریں یعنی مسلمان اسلام پر اور عیسائی انجیل پر عمل پیرا ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ملک جہاں مسلمان بستے ہوں گے نہایت امن اور سکون ہو گا لیکن جہاں عیسائیت کی تعلیم پر عمل ہورہا ہوگا وہاں ابتری پھیلی ہوئی ہوگی۔مصر کا ایک واقعہ ہے کہ ایک پادری ہمیشہ اس امر کا وعظ کرتا کہ عیسائیت بہت اچھی ہے۔محبت کی تعلیم دیتی ہے۔رحم دلی کی تاکید کرتی ہے۔قریب تھا کہ اس کی چکنی چپڑی باتوں میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ گرفتار ہو جاتا کہ ایک مسلمان کو نہایت ہی مفید تجویز سوجھی۔اس نے اس پادری کے گال پر زور سے تھپڑ مارا۔پادری نے جب اسے مارنا چاہا تو اس نے کہا کہ آپ اپنی تعلیم پر عمل کریں اور دوسرا گال بھی میری طرف کر دیں۔پادری نے کہا کہ اگر میں اپنی تعلیم پر عمل کروں تو میرا چلنا پھرنا دو بھر ہو جائے اب میں تمہاری تعلیم پر ہی عمل کروں گا۔جرمن اور فرانس کی لڑائی پر بعض پادریوں کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ یہ لڑائی عیسائیت کی تعلیم کے خلاف ہے۔فرانس کو چاہئے تھا کہ تحکیم چھوڑ فرانس کے قلعے بھی جرمن کے حوالے کر دیتا اور لڑائی ختم ہو جاتی۔پس اگر ہر قوم اپنے مذہب پر عمل کرے تو بغیر تبلیغ کرنے کے اسلام کی فوقیت ثابت ہو جائے گی۔مسلمانوں میں جب بھی فساد ہوتا ہے وہ اسلام کو چھوڑنے سے ہی ہوتا ہے۔