زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 104

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 104 جلد دوم اجازت دی ہے۔کیونکہ اس طرح ایک تو اس نے بددیانتی کر کے گناہ کیا دوسرے اس کو اسلام سے اور دور کر دیا۔پس تمہارے اخلاق اس قسم کے ہونے چاہئیں کہ تمہارے ہمسائے تم پر انگلیاں نہ اٹھا ئیں بلکہ تعریف کریں اور کہیں کہ یہ کبھی جھوٹ نہیں کہہ سکتا۔یہ کبھی بددیانتی نہیں کرتا۔کئی لوگ مذہباً احمدیت کی سچائی کو مان لیتے ہیں اور احمدیت میں داخل ہو کر اصلاح کی کوشش بھی کرتے ہیں۔لیکن بعض دفعہ مرض کے طور پر وہ غلطی بھی کر جاتے ہیں۔لیکن تمہارے لئے کتنا اچھا موقع ہے کہ بچپن سے تمہارے کانوں میں یہ آواز پڑتی چلی آ رہی ہے کہ دیانت اچھی چیز ہے۔اگر ایسے ماحول کے ہوتے ہوئے بھی تم میں سے کوئی کسی وقت دیانت کو چھوڑ دے تو افسوس کا مقام ہے۔ایک عیسائی کے نزدیک لا اله الا اللہ کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ تثلیث کا قائل ہے۔ایک سناتی کے نزدیک لا اله الا اللہ کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ بتوں کا پوجاری ہے۔ایک آریہ کے نزدیک حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کوئی قیمت نہیں کیونکہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ ویدوں کے رشیوں کے بعد کسی سے خدا ہمکلام نہیں ہو سکتا۔لیکن ان سب کے نزدیک دیانت اور امانت کی قیمت ہے کیونکہ سب کے سب اس کو قیمتی خیال کرتے ہیں اور وہ تمہارے نیک نمونہ سے یقیناً متاثر ہوں گے اور اقرار کریں گے کہ احمدیت نے ان کے اندر ایک ایسی تبدیلی پیدا کر دی ہے اور ان کو ایک ایسی چیز دے دی ہے جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتی۔اس طرح تم لوگوں کے دلوں کو متاثر کر سکتے ہو۔باقی مسائل کے متعلق ان کو ہزاروں اعتراض ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ ایسے خزانے ہیں جو ابھی ان کے لحاظ سے زمین میں دبے ہوئے ہیں۔لیکن یہ ایک بالکل ظاہر چیز ہے اور ہر ایک اس کی صداقت کا قائل ہے۔پس اخلاق اور اعلیٰ نمونہ کے ساتھ احمدیت کی تبلیغ اور اس کی خدمت کرو۔اس کے بعد میں ایڈریس کی اس بات کی طرف آتا ہوں کہ عیسائی ہم پر یہ اعتراض ا