زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 106

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 106 جلد دوم لیکن دوسری قوموں میں جب فساد ہوتا ہے اپنے مذہب پر چلنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اسلام کے مقابل کوئی مذہب عملی طور پر ٹھہر نہیں سکتا اور مسلمانوں کے نقائص کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ نے احمدیت کو قائم کیا ہے۔اگر ہم اس بات کو اپنے عمل سے بھی ثابت کر سکیں تو احمدیت بہت جلد پھیل سکتی ہے۔لیکن اگر تمہارے اندر نہ قربانی کا جذبہ ہو نہ غریبوں سے حسن سلوک، نہ سچائی ، نہ امانت، نہ بڑوں کا ادب، نہ ان سے ہمدردی تو تم اس سوال کا کیا جواب دو گے کہ تم نے مسیح موعود کو مان کر کیا حاصل کیا۔اس سے قبل ایک وقت تھا کہ تم کہہ سکتے تھے ابھی انتظار کرو۔بیج ابھی بویا گیا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد پھل لائے گا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ لوگ احمدیت میں نئے نئے داخل ہو رہے تھے اور تم لوگوں کو تسلی دلا سکتے تھے کہ ابھی ان نو احمدیوں پر سے پچھلی میل دور نہیں ہوئی۔لیکن جب کو نیپل درخت بن جائے اور پھر اس پر ایک لمبا عرصہ بھی گزر جائے مگر وہ درخت پھل نہ لائے تو اس حالت میں معترض کو کیا جواب دیا جا سکتا ہے۔پس تمہاری ذمہ داری پہلوں سے زیادہ ہے۔تمہارے کام اور جذبات دوسروں سے بالکل ممتاز ہونے چاہئیں۔تمہاری زندگیاں بنی نوع انسان کی ہمدردی میں گزرنے والی ہوں۔تم میں سے کتنے ہیں جو اپنے ہفتہ کے اوقات میں سے کچھ حصہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کے کام پر خرچ کرتے ہیں۔طالب علم بھی بڑے آدمی کی طرح خدمت کر سکتا ہے اور تمہاری غربت کو محوظ رکھتے ہوئے تمہاری قربانی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔لیکن یہ اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ تم کچھ کر کے دکھاؤ۔مجھے لندن کے ہو مرس را مرز کا قصہ بہت پسند آتا ہے۔اس کا ایک نوکر تھا جو اس سے بہت تھوڑی تنخواہ حاصل کرتا تھا۔ایک دن اس نے مذاقاً نوکر سے کہا میرا تو دیوالہ نکل گیا ہے اور اب میں تمہیں اتنی تنخواہ نہیں دے سکتا۔اس پر نو کرنے ہیں تمہیں یا چالیس روپے جو اپنی تنخواہ سے بچائے ہوئے تھے اپنے مالک کے سامنے پیش کر دیئے۔اس کا اس پر بہت بڑا اثر ہوا۔تو چھوٹی سے چھوٹی قربانی کی بھی قدر بہت زیادہ ہوتی ہے اور جذبات قربانی کی عظمت کو بلند کر دیتے ہیں۔اگر مثلاً