زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 5

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 5 جلد دوم نے اپنی رائے کا اظہار کیا یہی رائے تھی کہ مدرسہ ہائی تو ڑ دیا جائے اور دینیات کا مدرسہ قائم کیا جائے۔سب سے میری مراد وہ لوگ ہیں جو اس معاملہ میں حصہ لے رہے تھے ممکن ہے جو لوگ خاموش تھے وہ ہمارے ہی ساتھ ہوں۔یہ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ ہم پر اس قسم کے فتوے لگنے شروع ہو گئے کہ انہیں دین سے محبت نہیں۔چونکہ میں گھر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پہنچ کر بات آسانی سے کر سکتا تھا اس لئے حضرت خلیفہ اول کوئی بات میرے کان میں ڈال دیتے اور میں اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچا دیتا۔آخر وہ دن آیا جب اس مسئلہ پر بحث ہوئی۔اس میں تو ہمیں فتح حاصل ہوئی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما یا مدرسہ ہائی نہ تو ڑا جائے۔لیکن اُس وقت دوسری پارٹی کی طرف سے ایک شخص نے جن کا نام شاید نذیر احمد تھا اور جو کوئٹہ کی طرف سے آئے تھے تقریر کی اور کہا مدرسہ احمدیہ کی ضرورت ہی نہیں۔ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں چند مسائل کا اختلاف ہے۔ان مسائل کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حل کر دیا ہے اور ان کے دلائل بتا دیئے ہیں باقی باتیں دوسرے مدرسوں سے سیکھی جاسکتی ہیں۔وہ ابھی یہ تقریر کر ہی رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آگئے اور آپ نے پوچھا اس وقت تک کیا باتیں ہو چکی ہیں؟ وہ بتائی گئیں اور عرض کیا گیا اس وقت یہ بات پیش ہے کہ بعض کہتے ہیں دینیات کے مدرسہ کی ضرورت نہیں ہم میں اور دوسرے مسلمانوں میں چند باتوں کا اختلاف ہے اور ان اختلافی باتوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حل کر دیا ہے۔تب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تقریر کی۔میں نے سنا ہے وہ چھپ چکی ہے میں نے چھپی ہوئی نہیں پڑھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسروں لوگوں سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح اور چند مسائل میں ہے۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریم ﷺ ، قرآن ، نماز ، روزہ، حج ، زکوۃ غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ان سے ہمیں اختلاف ہے۔ہم وہ روح لائے صلى الله