زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 103

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 103 جلد دوم و شخص گھبرایا تو اس احمدی نے کہا میں تمہیں مارتا نہیں کیونکہ تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے رشتہ دار ہو۔میں اپنے بھائیوں کو تمہاری شکل دکھانی چاہتا ہوں کیونکہ ہم سنا کرتے تھے کہ شیطان نظر نہیں آتا۔مگر آج ہم نے دیکھ لیا ہے کہ وہ ایسا ہوتا ہے۔پس ہم میں سے کوئی نہیں جس نے اپنے رشتہ داروں، قریبیوں اور اپنے احساسات کی قربانی نہیں کی۔اور آجکل جو کچھ دنیا میں ہمیں کہا جاتا ہے کون اسے آسانی سے سن سکتا ہے۔مخالف یہ سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ ہم نے خدا کے فرستادہ کو قبول کیا ہے۔جب ہم نے احمد بیت کے لئے دنیا کو قربان کر دیا ہے، دنیا کی سب چیزوں کو کھو کر دیانت اور امانت کو حاصل کیا ہے تو نو جوانو ! دیانت اور امانت کا ایسا ثبوت دو کہ کوئی تم پر حرف نہ لا سکے۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ افراد کو لوٹنا بد دیانتی نہیں ہے۔بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ انجمنوں کو لوٹنا بد دیانتی نہیں ہے۔گورنمنٹ کے بعض افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ عوام الناس کو لوٹنا برا نہیں ہے۔اور بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کو لوٹنا برا نہیں ہے۔لیکن کسی کا حق مارنا خواہ وہ کوئی ہو گناہ ہے اور قابل گرفت جرم۔آجکل کے اہلحدیثوں کو خصوصاً یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ غیر مذاہب کے لوگوں کا مال کھا نا برا نہیں۔حضرت خلیفہ اول اپنے ایک رشتہ دار کا واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ اس کو انہوں نے اٹھنی دی کہ بازار سے سودا لے آؤ۔وہ سودا بھی لے آیا اور اٹھتی بھی لے آیا اور ان کو دینی چاہی۔انہوں نے پوچھا کیسی ہے ؟ اس نے کہا کہ مال غنیمت ہے۔ان کے استفسار پر اس نے بیان کیا کہ وہ دکاندار اٹھتی کو صندوقچی کے اوپر رکھ کر اندر کوئی چیز لینے کے لئے گیا تو میں نے اٹھالی اور سودا بھی لے لیا۔گویا اس کے نزدیک غیر مذہب کے آدمی کا مال لینا جائز تھا اور یہ بددیانتی نہیں تھی۔حالانکہ دیانت کا سوال اپنے مذہب کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وسیع اصول ہے۔اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان سے بددیانتی سے پیش آئے یا عیسائی عیسائی سے بد دیانتی کرے تو یہ اس قدر برا نہیں جس قدر یہ برا ہے کہ کوئی مسلمان کسی ہندو سے یہ سمجھ کر بد دیانتی کرے کہ اسلام نے اسے اس بات کی