زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 102

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 102 جلد دوم یہ باتیں کر رہی رہے تھے کہ اتنے میں وہ آگئے۔ان صاحب نے ان سے میری ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا ابھی آتا ہوں۔اور پھر جب تک ہم وہاں رہے وہ تقریب میں شامل نہ ہوئے۔میں سمجھتا ہوں ہمارے درجنوں ایسے رشتہ دار ہیں جو احمدیت کی وجہ سے منقطع ہو گئے۔اس واسطے نہیں کہ ہم ان سے نہیں ملنا چاہتے بلکہ اس واسطے کہ وہ نہیں ملنا چاہتے۔ہمیں اپنے خاندان کے لوگوں سے گالیاں ملتی تھیں۔ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں احمدی ہو گئیں وہ ہم کو برا بھلا کہتی تھیں۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ جبکہ میری عمر 6 ، 7 سال کی ہوگی میں سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر بار بار یہ کہنا شروع کیا جیہو جیہا کاں اوہو جیہی کو کو اس فقرہ کو انہوں نے اتنی دفعہ دہرایا کہ مجھے یاد ہو گیا۔میں نے گھر میں جا کر یہ بات بتلائی اور پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ تو انہوں نے بتایا جیسے باپ برا ہے ویسا ہی بیٹا بھی برا ہے۔قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بائیکاٹ کیا گیا۔لوگوں کو آپ کے گھر کا کام کرنے سے روکا جاتا۔کمہاروں کو روکا گیا، چوہڑوں کو صفائی سے روکا گیا ، ہمارے عزیز ترین بھائی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھاوج اور دیگر عزیز رشتہ دارختی کہ آپ کے ماموں زاد بھائی علی شیر یہ سب طرح طرح کی تکلیفیں دیا کرتے تھے۔ایک دفعہ گجرات کے علاقہ کے کچھ دوست جو سات بھائی تھے قادیان میں آئے اور باغ کی طرف اس واسطے گئے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہوتا تھا۔راستہ میں ہمارے ایک رشتہ دار باغیچہ لگوا رہے تھے۔انہوں نے ان سے دریافت کیا کہاں سے آئے ہو اور کیوں آئے ہو؟ انہوں نے جواب میں کہا گجرات سے آئے ہیں اور حضرت مرزا صاحب کے لئے آئے ہیں۔انہوں نے کہا دیکھو میں ان کا ماموں کا لڑکا ہوں میں خوب جانتا ہوں یہ ایسے ہیں ویسے ہیں۔ان میں سے ایک نے جو دوسروں سے آگے تھا بڑھ کر ان کو پکڑ لیا اور اپنے بھائیوں کو آواز دی کہ جلدی آؤ۔اس پر