زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 97

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 97 جلد دوم جب امریکہ گئے اور نیو یارک میں ان کا پہلا لیکچر ہوا تو اس کے لئے سات ہزار ٹکٹ فروخت ہو جانے کے بعد بھی بہت سے لوگ باقی تھے جو لیکچر سننے کے شوقین تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ملک مقابلہ ایک نیا ملک ہے۔اس میں لوگوں نے خاص عادات اور خاص نظام ابھی پیدا نہیں کیا جیسا کہ انگلستان کے لوگوں نے پیدا کیا ہوا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انگلستان میں زیادہ مبلغین موجودہ حالات سے زیادہ کام کر سکتے ہیں، زیادہ تبلیغ ہوسکتی ہے۔مگر یہ بات کہ ان کے ذریعہ وہاں تبلیغ کا شور بر پا ہوسکتا ہے ناممکن ہے۔کیونکہ اہل انگلستان سینکڑوں سالوں سے دوسری قوموں پر حکومت کرتے چلے آئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تہذیب اور ان کا تمدن انتہائے کمال تک پہنچا ہوا ہے اور وہ تمام دنیا پر تفوق حاصل کر چکے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ جو راہ انہوں نے اختیار کر رکھی ہے وہی درست ہے ان امور کے پیش نظر ان پر تبلیغ کا فوری اثر نہیں ہوسکتا۔اصل بات یہ ہے کہ کام اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ کام کرنے کے لئے صحیح طریق اختیار کیا جائے۔اگر ان اصول کو مد نظر رکھا جائے جو کام کرنے کے ہیں تو کام بہت اچھا ہو سکتا ہے۔اگر صحیح طور پر کام کیا جائے تو بھی لندن میں دو مبلغ بہت تھوڑے ے ہیں۔لندن میں ستر اسی لاکھ کی آبادی ہے اور یہ شہر سترہ اٹھارہ میل تک پھیلا ہوا ہے۔پس اگر وہاں تبلیغی مشن میں کوئی تغیر کرنا پڑا تو وہ اس خیال کے ماتحت نہیں کیا جائے گا کہ وہاں دو مبلغوں کے لئے کام نہیں بلکہ اس خیال کے ماتحت کیا جائے گا کہ وہاں دو ہندوستانیوں کو مل کر کام کرنا نہیں آتا۔چونکہ اس کے متعلق ایک سکیم میرے زیر غور ہے اس لئے میں نے اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔باقی تقریر کو میں نظر انداز کرتا ہوں گویا کہ وہ کی ہی نہیں گئی۔میں پھر ینگ مینز احمد یہ ایسوسی ایشن کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کام کا موقع ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے وہ مفت میں ثواب کما سکتے ہیں۔لیکن دقت یہ ہے کہ تربیت کی کمی کی وجہ سے انہیں عاجل چیز کا احساس زیادہ ہے اور وہ