زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 98

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 98 جلد دوم آجل چیز جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے اس کا احساس کم ہے۔اگر نیشنل لیگ اپنا کام با قاعدہ کر رہی ہے تو ایسوسی ایشن کے لئے اور کام کی کمی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے بہت وسیع کام پیدا کئے ہیں۔اور اگر ان کاموں کو باقاعدگی سے کیا جائے ، محنت، توجہ اور تندہی سے کیا جائے تو وہ بہت عمدہ نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔لیکن اگر سیکرٹری یا پریذیڈنٹ اپنے دوسرے کاموں کی وجہ سے فرصت ہی نہ نکال سکیں تو پھر کام کیا ہو سکتا ہے۔جب تک انسان کسی کام کی سرانجام دہی کے لئے اپنی جان پر بوجھ نہ ڈالے اور یہ محسوس نہ کرے کہ اس سے اس کے دوسرے کاموں اور اس کی طبیعت پر اثر پڑ رہا ہے اُس وقت تک وہ کام خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول نہیں ہو سکتا۔اگر اس جذبہ کے ماتحت کام کیا جائے تو بینگ میز احمد یہ ایسوسی ایشن یہ قطعاً نہیں کہہ سکتی کہ نیشنل لیگ یا احمدیہ کو رہنے کی وجہ سے اس کی ضرورت نہیں رہی۔بلکہ اگر دس گیارہ اور انجمنیں بھی قائم ہو جائیں تو بھی وہ زیادہ نہیں۔مگر اس طرح نہیں کہ مہا جال پھیلا یا جائے اور اپنے پروگرام میں تمام دنیا کے کام شامل کر لئے جائیں۔تقسیم عمل ہو تو پھر مختلف انجمنوں کے پروگرام کا آپس میں ٹکراؤ نہیں ہوتا بلکہ اتحاد اور تعاون پیدا ہوتا ہے اور کام بھی بخوبی ہو سکتا ہے۔“ (الفضل 9 اکتوبر 1935 ء )