زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 96

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 96 جلد دوم اور دوسرا مرکز میں رہے مگر یہ بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اس طرح تمام ملک میں تبلیغ کا شور بر پا کیا جا سکتا ہے۔نہ ایک نہ دو نہ چار مبلغ تبلیغ کر کے ملک میں شور ڈال سکتے ہیں۔اگر ہیں یا چھپیں آدمی بھی بھیجوا دیے جائیں تو بھی یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ تمام ملک کو بیدار کر سکیں گے۔یہاں ہندوستان میں لوگ اپنے کاروبار میں اس قدر مصروف نہیں ہوتے کہ کوئی فرصت کا وقت نہ نکال سکیں۔مگر انگلستان کے لوگوں کے ذمہ اتنا کام ہوتا ہے اور وہ اپنے کاروبار میں اس قدر مشغول ہوتے ہیں کہ وہ کسی اور کام کی طرف توجہ ہی نہیں کر سکتے۔اور یہ بات ان کی عادت میں داخل ہے کہ وہ کوئی ایسا کام جسے وہ فضول سمجھتے ہیں نہیں کرتے۔اگر چہ ان کے کچھ کام ایسے بھی ہیں جن کو ہم فضول سمجھتے ہیں مگر ان کے نزدیک وہ فضول نہیں ہیں۔مثلاً سینما یا ناچ وغیرہ ہے۔وہ ان باتوں کو اپنے کام کا ایک حصہ سمجھتے ہیں اور انہیں اپنے اصلی کام کے لئے مفید اور محمد خیال کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری افسروں کے اس قسم کے اخراجات ان کی گورنمنٹ برداشت کرتی ہے۔تمام ناچ وغیرہ جو وزراء یا گورنمنٹ کی طرف سے کرائے جاتے ہیں ان کے اخراجات گورنمنٹ خود برداشت کرتی ہے۔اس قسم کی باتوں کے علاوہ وہ زائد وقت نہیں نکال سکتے۔میں جب انگلستان میں گیا تو وہاں ایک جگہ ایک پولیٹیکل لیکچر دیا جس میں حاضری تین چار سو سے زیادہ نہیں تھی۔اس کے علاوہ ایک مذہبی پبلک لیکچر دیا گیا جس میں صرف دواڑھائی سو آدمی ہوں گے۔دوسرے تمام لیکچر جو ہمارے ہوتے رہے ان میں تمہیں چالیس یا پچاس آدمیوں سے زیادہ لوگ جمع نہ ہوتے۔مجھے یاد ہے کہ مسٹر داس گپتا جو وہاں رہتے ہیں اور انہوں نے کئی انجمنیں بنائی ہوئی ہیں اور جن کی ایک انجمن کے سر پرست ڈیوک آف کناٹ ہیں اکثر ہمارے پاس آتے تھے۔ان سے جب لیکچروں میں سامعین کی تعداد کے متعلق ذکر کیا گیا تو وہ کہنے لگے آپ کو اس ملک کی واقفیت نہیں۔ٹیگور کو آپ جانتے ہیں ان کی کئی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں اس ملک میں شائع ہوئی ہیں مگر ان کے لیچروں میں زیادہ سے زیادہ ستر آدمی ہوتے تھے۔جس سے وہ بہت مایوس ہو گئے۔مگر