زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 87

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 87 جلد اول رستے بن جائیں۔یہی حال علم کا ہوتا ہے۔علم کی بے شمار شاخیں ہیں اور اس قدر شاخیں ہیں جن کی انتہا ہی نہیں۔پس علم کا خاتمہ شاخوں کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اس کا خاتمہ جڑ کی طرف ہے کہ وہ ایک ہے اور وہ ابتدا ہے جو جہالت کے بالکل قریب ہے۔بلکہ جہالت کو سے بالکل ملی ہوئی ہے ورنہ آگے جوں جوں بڑھتے جائیں اس کی شاخیں نکلتی آتی ہیں اور وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتیں۔اگر کسی نے ایک شاخ کو ختم کر لیا تو اس کے لئے دوسری موجود ہے۔غرض علم کی کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ بھی ختم نہیں ہو سکتا۔اور روحانی علوم کی تو قطعاً کوئی حد ہے ہی نہیں۔ڈاکٹری کے متعلق ہی کس قدر علوم دن بدن نکل رہے ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔پس کوئی علم ختم نہیں ہو سکتا۔اور جہاں کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ علم ختم ہو گیا ہے وہاں سمجھ لینا چاہئے کہ وہ علم کے درخت سے اتر کر جہالت کی طرف آ گیا ہے۔پس کبھی یہ مت خیال کرو کہ ہمارا علم کامل ہو گیا۔کیونکہ ایک تو یہ جھوٹ ہے کوئی علم ختم نہیں ہوسکتا۔دوسرے اس سے انسان متکبر ہو جاتا ہے اور اس کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔لیکن اگر انسان ہر وقت اپنے آپ کو طالب علم سمجھے اور اپنے علم کو بڑھاتا رہے تو اس کے دل پر زنگ نہیں لگتا۔کیونکہ جس طرح چلتی تلوار کو زنگ نہیں لگتا لیکن اگر اسے یوں ہی رکھ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو زنگ لگ جاتا ہے۔پس ہر وقت اپنا علم بڑھاتے رہنا چاہئے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔پندرھویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ باغ میں کہا گیا ہے کہ پہنچا دے۔اور جس کو کچھ پہنچایا جاتا ہے وہ بھی کوئی وجود ہونا چاہئے جو معین اور مقرر ہو۔ورنہ اگر کسی معتین وجود کو نہ پہنچانا ہوتا تو یہ کہا جاتا کہ پھینک دو یا بانٹ دو۔مگر اللہ تعالیٰ نے پہنچا نا فرمایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ معین وجود ہیں جن کو ان کا حصہ پہنچانا ہے۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ 7 اس میں عموم کے لحاظ سے سب انسان آ گئے۔ان کو پیغام الہی پہنچانا ہمارا کام ہے۔پس کسی قوم اور کسی فرقہ کوحقیر اور ذلیل نہ سمجھا پندرھویں ہدایت