زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 86 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 86

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 86 جلد اول ہو۔یہ بات صحابہ میں بھی ہوتی تھی کہ کسی کو کسی سے محبت اور کسی مناسبت کی وجہ سے زیادہ تعلق ہوتا تھا اور وہ دوسروں کی نسبت آپس میں زیادہ تعلق رکھتے تھے اور ہم میں بھی اسی طرح ہے اور ہونی چاہئے لیکن جو بات بری ہے اور جس سے مبلغ کو بالا رہنا چاہئے یہ ہے کہ وہ کسی فریق میں اپنے آپ کو شامل کر لے۔ہر ایک مبلغ رسول کریم ﷺ کا حل ہے اور ظل وہی ہو سکتا ہے جس میں وہ باتیں پائی جائیں جو اصل میں تھیں۔رسول کریم کے ایک دفعہ نکلے تو دیکھا کہ دو پارٹیاں آپس میں تیر اندازی کا مقابلہ کر رہی ہیں۔آپ ان کا حوصلہ بڑھانے کے لئے ایک کے ساتھ ہو کر تیر مارنے لگے۔اس پر دوسری پارٹی نے اپنی کمانیں رکھ دیں اور کہا ہم آپ کا مقابلہ نہیں کریں گے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اچھالو میں دخل نہیں دیتا 6 چونکہ آپ سب کے ساتھ ایک ہی تعلق رکھتے تھے اس لئے آپ کو مد مقابل بنانے کے لئے صحابہ تیار نہ ہوئے اور اس بات کو رسول کریم یا یا اللہ نے تسلیم کی کے دخل دینا چھوڑ دیا۔یہ چونکہ جنگی لحاظ سے ایک مقابلہ تھا اس لئے آپ الگ ہو گئے ورنہ ایسی باتیں جو تفریح کے طور پر ہوتی ہیں ان میں آپ شامل ہوتے تھے۔چنانچہ ایسا ہوا ہے کہ گھوڑ دوڑ میں آپ نے بھی اپنا گھوڑا دوڑایا۔اس قسم کی باتوں میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں تھا۔غرض مبلغ کو بھی ایسی باتوں میں کسی فریق کے ساتھ نہیں ہونا چاہئے جو مقابلہ کے طور پر ہوں اور بالکل الگ تھلگ رہ کر اس بات کا ثبوت دینا چاہئے کہ اس کے نزدیک دونوں فریق ایک جیسے ہی ہیں۔چودھویں ہدایت چودھویں بات یہ ضروری ہے کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ میراعلم کامل ہو گیا ہے۔بہت لوگ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا علم مکمل ہو گیا ہے اور ہمیں اور کچھ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔مگر اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں ہے کیونکہ علم کبھی مکمل نہیں ہوسکتا۔میں تو علم کی مثال ایک رستہ کی سمجھا کرتا ہوں جس کے آگے دور ستے ہوجائیں۔پھر اس کے آگے دو ہو جائیں اور پھر اس کے آگے دو۔اسی طرح آگے شاخیں ہی شاخیں نکلتی جائیں اور اس طرح کئی ہزار