زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 88
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 88 جلد اول جائے۔مبلغ کا کام پہنچانا ہے اور جس کو پہنچانے کے لئے کہا جائے اسے پہنچا نا اس کا فرض ہے۔اسے یہ حق نہیں کہ جسے ذلیل سمجھے اسے نہ پہنچائے اور جسے معزز سمجھے اسے پہنچائے۔مگر ہمارے مبلغوں میں یہ نقص ہے کہ وہ ادنی اقوام چوہڑوں چماروں میں تبلیغ کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔وہ بھی خدا کی مخلوق ہے اسے بھی ہدایت کی ضرورت ہے۔ان کو بھی تبلیغ کرنی چاہئے اور سیدھے رستہ کی طرف لانا چاہئے۔عیسائیوں نے ان سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے اور اس سے زیادہ ہندوستان میں ایسی اقوام کے لوگوں کو عیسائی بنا لیا ہے جتنی ہماری جماعت کی تعداد ہے اور اب ان لوگوں کو کونسل کی ممبری کی ایک سیٹ بھی مل گئی۔ہے۔ہمارے مبلغ اس طرف خیال نہیں کرتے۔حالانکہ ان لوگوں کو سمجھانا بہت آسان ہے۔ان کو ان کی حالت کے مطابق بتایا جائے کہ دیکھو تمہاری کیسی گری ہوئی حالت ہے اس کو درست کرو اور اپنے آپ کو دوسرے انسانوں میں ملنے جلنے کے قابل بناؤ۔اس قسم کی کی باتوں کا ان پر بہت اثر ہوگا اور جب انہیں اپنی ذلیل حالت کا احساس ہو جائے گا اور اس سے نکلنے کا طریق انہیں بتایا جائے گا تو وہ ضرور نکلنے کی کوشش کریں گے۔ان کو کسی مذہب کے قبول کرنے میں سوائے قومیت کی روک کے اور کوئی روک نہیں ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو یہ اچھی بات نہ ہوگی۔ہمارے ہاں جو چو ہڑیاں آتی ہیں تبلیغ کرنے پر کہتی ہیں ہم مسلمان ہی ہیں مگر ہم اپنی قوم کو کیونکر چھوڑ دیں۔یہ روک اس طرح دور ہو سکتی ہے کہ دس پندرہ میں گھر اکٹھے کے اکٹھے مسلمان ہو جائیں اور ان کی قوم کی قوم بنی رہے جیسا کہ یہ لوگ جب عیسائی ہوتے ہیں تو اکٹھے ہی ہو جاتے ہیں۔پس ان میں تبلیغ کرنے کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔اگر ہم ساری دنیا کے لوگوں کو مسلمان بنالیں مگر ان کو چھوڑ دیں تو قیامت کے دن خدا تعالیٰ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ چوہڑے چمار تھے اس لئے ہم نے ان کو مسلمان نہیں بنایا۔خدا تعالیٰ نے ان کو بھی آنکھ، کان، ناک، دماغ ، ہاتھ ، پاؤں اسی طرح دیتے ہیں جس طرح اوروں کو دیئے ہیں۔فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کا غلط استعمال کر کے انہیں خراب کر لیا ہے۔