زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 85
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 85 جلد اول کہا جا سکتا ہے کہ اگر لیکچر کے لئے کھڑے ہوتے وقت بالکل خالی الذہن ہو کر کھڑا ہونا چاہئے تو پھر لیکچر کے لئے نوٹ کیوں لکھے جاتے ہیں؟ اس کے متعلق یا د رکھنا چاہئے کہ جس طرح لیکچر کے وقت میں نے بتایا ہے کہ باکل خالی الذہن ہونا چاہئے اسی طرح جن لیکچروں کے لئے جوابوں کی کثرت یا مضمون کی طوالت یا اس کی مختلف شاخوں کے سبب سے نوٹ لکھنے ضروری ہوں ان کے نوٹ لکھتے وقت یہی کیفیت دماغ میں پیدا کرنی چاہیئے اور پھر نوٹ لکھنے چاہئیں۔میں ایسا ہی کرتا ہوں۔اور اس وقت جو کچھ خدا تعالیٰ لکھاتا جاتا ہے وہ لکھتا جاتا ہوں۔پھر ان میں اور باتیں بڑھالوں تو اور بات ہے۔اسی سالانہ جلسہ پر لیکچر کے وقت ایک اعتراض ہوا تھا کہ فرشتوں کا چشمہ تو خدا ہے جیسا کہ بتایا گیا ہے اور وہ اس چشمہ سے لے کر آگے پہنچاتے ہیں۔مگر شیطان کا چشمہ کیا ہے؟ اس اعتراض پر دس پندرہ منٹ کی تقریر میرے ذہن میں آئی تھی اور میں وہ بیان ہی کرنے لگا تھا کہ یک لخت خدا تعالیٰ نے یہ فقرہ میرے دل میں ڈال دیا کہ شیطان تو چھینتا ہے نہ کہ لوگوں کو کچھ دیتا ہے اور چھینے والے کو کسی ذخیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ایسا مختصر اور واضح جواب تھا کہ جسے ہر ایک شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا۔لیکن جو تقریر کرنے کا میں نے ارادہ کیا تھا وہ ایک تو لمبی تھی اور دوسرے ممکن تھا کہ علمی لحاظ سے وہ ایسی مشکل ہو جاتی کہ ہمارے دیہاتی بھائی اسے نہ سمجھ سکتے۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ دل میں ڈالا جاتا ہے وہ بہت جامع اور نہایت زود فہم ہوتا ہے اور اس کا اثر جس قدر سننے والوں پر ہوتا ہے اتنا کسی لمبی سے لمبی تقریر کا بھی نہیں ہوتا۔پس تم یہ حالت پیدا کرو کہ جب تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو تو بالکل خالی الذہن ہو اور خدا تعالیٰ پر تمہارا سارا مدار ہو۔اگر چہ یہ حالت پیدا کر لینا ہر ایک کا کام نہیں ہے اور بہت مشکل بات ہے لیکن ہوتے ہوتے جب اس کی قابلیت پیدا ہو جائے تو بہت فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔تیرھویں ہدایت تیرھویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی پارٹی میں اپنے آپ کو داخل نہ سمجھے بلکہ سب کے ساتھ اس کا ایک جیسا ہی تعلق