زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 71
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 71 جلد اول انہی مقامات پر جانے کی ہوتی ہے جہاں کوئی احمدی نہ ہو۔کیونکہ جہاں بیج ڈال دیا گیا ہے وہاں وہ خود بڑھے گا اور جہاں ابھی بیج ہی نہیں پڑا وہاں ڈالنا چاہئے۔اور خدا تعالیٰ کی بھی یہی سنت معلوم ہوتی ہے کہ کسی ایک جگہ ساری کی ساری جماعت نہیں ہوتی بلکہ متفرق طور پر ہوتی ہے۔اسی قادیان میں دیکھ لو یہاں کے سارے باشندوں نے تو حضرت مسیح موعود کو نہیں مان لیا بلکہ اشد ترین مخالف یہاں ہی ہیں مگر بٹالہ کے کچھ لوگوں نے آپ کو مان لیا۔پھر وہاں بھی سب نے نہیں مانا بلکہ اکثر مخالف ہی ہیں۔پھر لاہور میں کچھ لوگوں نے مان لیا۔اسی طرح کچھ نے کلکتہ میں مانا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بیج کی طرح صداقت کو بویا ہوا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ صداقت کے مقام اور چھاؤنیاں بناتا جاتا ہے تا کہ ان کے ذریعہ اردگر داثر پڑے۔پس یہ خیال بالکل نادرست ہے کہ فلاں جگہ کے سب لوگوں کو احمدی بنا لیں تو پھر آگے جائیں۔اگر ایسا ہونا ضروری ہوتا تو قادیان کے لوگ جب تک سب کے سب نہ مان لیتے ہم آگے نہ جاتے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔اور نہ ہونا چاہئے تھا کیونکہ بعض ایسی طبائع ہوتی ہیں کہ دس ہیں دن میں مان جاتی ہیں، بعض اس سے زیادہ عرصہ میں بعض دو تین سال میں اور بعض دس پندرہ سال میں اور ہر جگہ ایسی طبائع کے لوگ ہوتے ہیں۔اب اگر ان لوگوں کی وجہ سے جنہوں نے لمبے عرصہ کے بعد ماننا ہے دوسری جگہ نہ جائیں گے تو وہاں کے ایسے لوگوں کو جو جلدی ماننے والے ہیں اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے اور ان کو اپنے ساتھ نہ ملاسکیں گے۔مگر ہمارے مبلغوں نے ابھی تک اس بات کو سمجھا نہیں اور اسی کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہزاروں اور لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو صداقت کو قبول کرنے سے ابھی تک محروم ہیں۔اگر سب جگہ ہماری جماعت کے مبلغ جاتے تو بہت سے لوگ مان لیتے۔چونکہ ہر جگہ ایسی طبیعتیں موجود ہیں جو جلد صداقت کو قبول کرنے والی ہوتی ہیں اس لئے ہر جگہ تبلیغ کرنی چاہئے۔یہاں ایک دوست نے بتایا کہ ایک شخص ان کو ریل میں ملا معمولی گفتگو ہوئی اور اس نے مان لیا اور پھر وہ یہاں آیا۔صرف تین روپے اس کی تنخواہ ہے اور روٹی کپڑا اسے ملتا