زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 70
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 70 جلد اول سے کوئی طمع یا لالچ پیدا بھی ہو تو وعظ کرنا بالکل چھوڑ دینا چاہئے اور توبہ و استغفار کرنا چاہئے اور جب وہ حالت دور ہو جائے پھر بے غرض ہو کر کھڑا ہونا چاہئے۔اور وعظ کے ساتھ اپنے اندر اور باہر سے لوگوں پر ثابت کر دینا چاہئے کہ وہ ان سے کوئی ذاتی فائدہ اور نفع کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان سے اپنی ذات کے لئے کچھ چاہتا ہے۔جب کوئی مبلغ اپنے دوسری ہدایت آپ کو ایسا ثابت کر دے گا تو اس کے وعظ کا اثر ہوگا ورنہ وعظ بالکل بے اثر جائے گا۔اسی طرح دوسرے وقت میں بھی سوال کرنے سے واعظ کو بالکل بچنا چاہئے۔سوال کرنا تو یوں بھی منع ہے اور کسی مومن کے لئے پسندیدہ بات نہیں ہے۔لیکن اگر واعظ سوال کرے گا تو یہ سمجھا جائے گا کہ وعظ اسی وجہ سے ہی کرتا ہے۔پس یہ نہایت ہی نا پسندیدہ بات ہے اور واعظوں کو خاص طور پر اس سے بچنا چاہئے ورنہ ان کے وعظ کا اثر زائل ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔دوسری بات واعظ کے لئے یا د ر کھنے کے قابل یہ ہے کہ دلیر ہو۔جب تک واعظ دلیر نہ ہو اس کی باتوں کا دوسروں پر اثر نہیں پڑتا اور اس کا دائرہ اثر بہت محدود رہ جاتا ہے کیونکہ وہ انہی لوگوں میں جانے کی جرات کرتا ہے جہاں اس کی باتوں کی واہ واہ ہوتی ہے۔لیکن اگر دلیر ہوتا تو ان میں بھی جاتا جو گالیاں دیتے ، دھکے دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں اور اس طرح اس کا حلقہ بہت وسیع ہوتا۔ہماری جماعت کے مبلغ سوال کرنے سے تو بچے ہوئے ہیں اور ان میں سے بہت میں غناء کی حالت بھی پائی جاتی ہے۔مگر یہ کمزوری ان میں بھی ہے کہ جہاں اپنی جماعت کے لوگ ہوتے ہیں وہاں تو جاتے ہیں اور وعظ کرتے ہیں لیکن جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں نہیں جاتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے دل میں مخفی طور پر واہ واہ سننے کی عادت جاگزیں ہوتی ہے۔وہ دورے کرتے ہیں اور میں نہیں دفعہ جاتے ہیں مگر انہی مقامات پر جہاں پہلے جاچکے ہیں اور جہاں احمدی ہوتے ہیں۔اور جس جگہ کوئی احمدی نہ ہو وہاں اس خیال سے کہ ممکن ہے کوئی گالیاں دے یا مارے نہیں جاتے۔حالانکہ سب سے زیادہ ضرورت