زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 72
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 72 جلد اول ہے مگر اس میں بڑا اخلاص ہے اور اخبار خریدتا ہے۔تو صرف ایک دن کی ملاقات کی وجہ سے وہ احمدی ہو گیا۔ہمیں دائرہ اثر وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔مگر مبلغین کی کمزوری کی وجہ سے نہیں ہوتا۔مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے۔اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مبلغ کی دلیری اور جرأت کا بھی دوسروں پر اثر پڑتا ہے اور لوگ اس کی جرات کو دیکھ کر ہی مان لیتے ہیں۔کئی ہندو اور مسلمان اسی لئے عیسائی ہو گئے کہ انہوں نے پادریوں کی اشاعت میسحیت میں دلیری اور جرات کو دیکھا اور اس سے متاثر ہو گئے۔تو مبلغ کو دلیر ہونا چاہئے اور کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے اور ایسے علاقوں میں جانا چاہئے جہاں تاحال تبلیغ نہ ہوئی ہو۔دلیری اور جرات ایسی چیز ہے کہ تمام دنیا میں اکرام کی نظر سے دیکھی جاتی ہے اور مبلغ کے لئے سب سے زیادہ دلیر ہونا ضروری ہے کیونکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن کر جاتا ہے۔اگر مبلغ ہی دلیر نہ ہو گا تو دوسروں میں جو اسے اپنے لئے نمونہ سمجھتے ہیں دلیری ا کہاں سے آئے گی۔ہمارے مبلغوں میں اس بات کی کمی ہے اور وہ بہت سے علاقے اسی دلیری کے نہ ہونے کی وجہ سے فتح نہیں کر سکتے ورنہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ اگر کوئی جرات کر کے چلا جائے تو صرف دیا سلائی لگانے کی ضرورت ہوگی آگے خود بخو د شعلے نکلنے شروع ہو جائیں گے۔مثلاً افغانستان اور خاص کر سرحدی علاقے ان میں اگر کوئی مبلغ زندگی کی پرواہ نہ کر کے چلا جائے تو بہت جلد سارے کے سارے علاقہ کے لوگ احمدی ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی حالت عربوں کی طرح کی ہے۔وہ جب احمدی ہوں گے تو اکٹھے کے اکٹھے ہی ہوں گے۔عام طور پر متمدن ممالک میں قوانین کے ذریعہ بہت کام چلایا جاتا ہے۔مثلاً اگر یہاں کسی کو کوئی دشمن قتل نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کہ زید یا بکر کے دوست اور اس کے ہم قوم اس کا مقابلہ کریں گے بلکہ اس لئے قتل نہیں کرتا کہ قانون اسے پھانسی دے گا۔اس لئے ایسے ممالک میں جو متمدن ہوں قانون کے ڈر کی وجہ سے لوگ ظلم سے رکتے ہیں۔لیکن جہاں تمدن نہ ہو وہاں ذاتی تعلقات بہت زوروں پر ہوتے ہیں۔۔کیونکہ ہر ایک شخص اپنا بچاؤ اسی میں سمجھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے آدمیوں کی جنبہ داری کرے تا وہ بھی