زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 69
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 69 جلد اول کا دل سے کام لینا۔اس کی بڑی شرط یہی ہے کہ جس شخص کو سلانا ہو اس کے سامنے کھڑے ہوکر انسان یہ یقین کرے اور اس حالت کو اپنی آنکھوں کے سامنے لائے کہ وہ سو گیا ہے۔جب یہ کیفیت کسی انسان میں پیدا ہو جاتی ہے تو دوسرا آدمی فوراً سو جاتا ہے۔اسی طرح اپنے قلب میں جو کیفیت بھی پیدا کر لی جائے اس کا اثر دوسروں پر ضرور ہو جاتا ہے۔غرض تبلیغ کرنے والوں کے لئے یہ دونوں باتیں نہایت ضروری ہیں کہ وہ عقلی دلائل کا ظاہری نمونہ بھی ہوں اور پھر جذبات بھی ان میں موجود ہوں۔یوں تو ہر وقت ہی ہوں مگر تقریر کرتے وقت خاص طور پر ابھرے ہوئے ہوں۔یہ جو باتیں میں نے بتائی ہیں یہ تو اصولی ہیں۔اب میں کچھ فروعی باتیں بتا تا ہوں جو ہر ایک مبلغ کو یاد رکھنی چاہئیں۔پہلی ہدایت سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ مبلغ بے غرض ہو اور سننے والوں کو معلوم ہو کہ اس کی ہم سے کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ورنہ اگر مبلغ کی کوئی ذاتی غرض ان لوگوں سے ہوگی تو وہ خواہ نماز پر ہی تقریر کر رہا ہو گا سنے والوں کو یہی آواز آ رہی ہوگی کہ مجھے فلاں چیز دے دو۔فلاں دے دو۔مسلمانوں کے واعظوں میں یہ بہت ہی بری عادت پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اپنے وعظ کے بعد کوئی غرض پیش کر کے امداد مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔اس سے سننے والوں کے ذہن میں یہ بات داخل ہو گئی ہے کہ وعظ کرنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا چاہئے اور اسے ایک فرض سمجھا جاتا ہے۔یہ ایسی بری رسم پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی واعظ وعظ کر رہا ہو تو سننے والے حساب ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے پاس کیا ہے اور ہم اس میں سے کس قدر مولوی صاحب کو دے سکتے ہیں اور کتنا گھر کے خرچ کے لئے رکھ سکتے ہیں۔اس رسم کی وجہ یہی ہے کہ عام طور پر مولوی وعظ کر کے پیچھے مانگتے ہیں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے اسے پورا کر دیا جائے۔اس کا بہت برا اثر ہو رہا ہے۔کیونکہ واعظ کی باتوں کو توجہ اور غور سے نہیں سنا جاتا۔پس واعظ کو بالکل مستغنی المزاج اور بے غرض ہونا چاہئے۔اگر کسی وقت شامت اعمال