زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 68
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 68 جلد اول نے کہا ذرا تم خود تو دکھاؤ کہ تمہاری دم ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو ہم سب کٹانے کے لئے چلیں۔اور اگر تمہاری پہلے ہی کئی ہوئی ہے تو معلوم ہوا کہ تم ہماری بھی کٹوانی چاہتے ہو۔باقی یونہی باتیں ہی باتیں ہیں۔تو عقلی دلائل کا اس وقت تک اثر نہیں ہوتا جب تک کہ خود دلیل دینے والے میں اس دلیل کا ثبوت نہ پایا جاتا ہو۔ایسی صورت میں لوگ یہی کہیں گے کہ بے شک دلیل تو معقول ہے مگر یہ بتاؤ اس کا نتیجہ کیا نکلا اور تم نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا ؟ اگر نتیجہ کچھ نہیں اور کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا تو پھر کیوں ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے مذہب کو قبول کریں اور خواہ مخواہ نقصان اٹھا ئیں۔اسی طرح جذبات ابھارتے وقت اگر صرف الفاظ استعمال کئے جاویں اور ان کے ساتھ روح نہ ہو تو وہ الفاظ بھی اثر نہیں کرتے۔یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت لوگ جو بڑے زور شور سے تقریریں کرنے والے ہوتے ہیں ان کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔مگر جن مقرروں کے اپنے جذبات ابھرے ہوئے ہیں خواہ کسی کچی وجہ سے یا جھوٹی وجہ سے ہی ان کے الفاظ اثر کرتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی سمجھے کہ مجھے دکھ پہنچا ہوا ہے حالانکہ دراصل ایسا نہ ہو تو بھی اس کا اثر اس کی آواز میں پایا جائے گا اور پھر سننے والوں پر ہوگا۔اس کے بالمقابل اگر کسی کو فی الواقع کوئی تکلیف پہنچی ہو لیکن اس کا قلب اسے محسوس نہ کرتا ہو تو کوئی اس کی باتوں سے متاثر نہ ہوگا۔پس دوسروں کے جذبات ابھارنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جب انسان بول رہا ہو تو اس کے اپنے جذبات بھی ابھرے ہوئے ہوں۔مثلاً جب کوئی مبلغ مسلمانوں میں تقریر کر رہا ہو اور کہہ رہا ہو کہ رسول کریم ﷺ پر کسی کو فضیلت نہ دینی چاہئے۔ان کی صلى الله عزت ، ان کا رتبہ، ان کا درجہ سب انبیاء سے اعلیٰ ہے تو اس کے ساتھ ہی رسول کریم ہوتا ہے کی محبت اس کے دل میں بھی موجزن ہونی چاہئے اور اس کے دل سے بھی جذبات کی لہر اٹھنی چاہئے۔تب دوسروں پر اثر ہوگا۔مسمریزم کیا ہے؟ یہی کہ جذبات کو ابھارنا اور شعور