زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 67
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 67 جلد اول بہت نقصان ہوگا۔کیونکہ جب لوگ عقلی دلائل کو چھوڑ دیں گے تو پھر ایسی حالت ہو جائے گی کہ وہ ہمارے کام کے بھی نہ رہیں گے۔اور اگر خالی دلائل سے کام لیا جائے تو ہمارے مبلغ صرف فلاسفر بن جائیں گے دین سے ان کا تعلق نہ رہے گا اور اس طرح بھی نقصان ہوگا۔پس اعلیٰ نتائج پیدا کرنے کے ان باتوں کو اپنے اندر پیدا کرنا چاہئے گئے ان دونوں دریوں سے کام لینا ضروری ہے مگر یہ بھی اسی وقت کام دے سکتے ہیں جبکہ انسان خود نمونہ کے طور پر بن جائے۔تم دلائل عقلی پیش کرو مگر تمہاری اپنی حالت ایسی نہ ہو کہ دیکھنے والے الجھیں کہ عقلاً تم جس بات پر قائم ہو اس سے تم کو فائدہ نہیں ہے تو ان پر کبھی ان دلائل کا خاص اثر نہ ہوگا کیونکہ اگر تم پر ان دلائل نے کوئی اثر نہیں کیا تو خوب یاد رکھو کہ تمہاری کوئی دلیل دوسروں پر بھی کوئی اثر نہ کرے گی۔تم جو دلائل دو پہلے اپنے آپ کو ان کا نمونہ بناؤ۔اپنے اوپر ان کا اثر دکھاؤ اور پھر دوسروں سے ان دلائل کے تسلیم کرنے کی توقع رکھو۔اسی طرح جذبات کا حال ہے۔جذبات کو ابھارنے والی وہی تقریر اثر کرے گی کہ جس وقت انسان تقریر کر رہا ہو اس کے اپنے دل میں بھی ایسے ہی جذبات پیدا ہور ہے ہوں کیونکہ دوسروں کے جذبات اس وقت تک نہیں ابھر سکتے جب تک ظاہری الفاظ کے ساتھ اندرونی جذبات بھی نہ ہوں۔اس کے لئے اپنے دل میں بھی ان جذبات کا پیدا کرنا ضروری ہے۔ورنہ ایسی تقریر کا کوئی اثر نہ ہو گا۔اسی طرح عقلی دلائل اس وقت تک اثر نہ کریں گے جب تک ان کے ماتحت انسان خود اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کرے گا۔اگر انسان خود توان دلائل کے ماتحت تبدیلی نہ کرے اور دوسروں کو کہے تو وہ ہرگز اس کی باتوں کی طرف توجہ نہ کریں گے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہوگی جیسا کہ کہتے ہیں کہ کسی لومڑ کی دم کٹ گئی تھی۔اس نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے تجویز کی کہ سب کی ڈمیں کٹانی چاہئیں۔اس نے دوسرے لومڑوں کو بتایا کہ دم کی وجہ سے ہی ہم قابو آتے ہیں اس کو کٹا دینا چاہئے تا کہ ہم پکڑے نہ جائیں۔یہ سن کر سب کٹانے کے لئے تیار ہو گئے کہ ایک بوڑھے لومڑی