زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 66
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 66 جلد اول سے تعلق رکھنے کے سبب سے ایک مسلمان کے دل میں رسول کریم ﷺ کی نسبت ہے وہ خود بخود جوش میں آ جاتا ہے اور کسی بات کو سامنے نہیں آنے دیتا۔حضرت صاحب کی تمام کتابوں میں یہی بات ملتی ہے۔اگر عقلی دلائل اور شعور سے کام لینے کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر دیکھیں تو دونوں پائے جاتے ہیں۔اور اگر صرف عقلی دلائل کو مدنظر رکھیں تو ساری کتب میں عقلی دلائل ہی نظر آتے ہیں۔اور اگر جذبات کے پہلو کو مدنظر رکھ کر دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ساری باتیں ایسی ہیں جن کے ذریعہ جذبات کو تحریک کی گئی ہے۔ہر ایک شخص کی کتاب میں یہ بات نہیں پائی جاسکتی۔اور یہ حضرت صاحب کے قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے۔آپ نے عقلی دلائل اور جذبات کو ایسے عجیب رنگ میں ملایا ہے کہ ایسا کرنا ہر ایک کا کام نہیں ہے۔لیکن گوہر ایک اس طرح نہیں کر سکتا مگر یہ کر سکتا ہے کہ ان سے الگ الگ طور پر کام لے۔عقلی دلائل سے الگ کام لے اور جذبات سے الگ۔حضرت صاحب نے ہر موقع پر جذبات کو ابھارا ہے اور کبھی محبت کبھی غضب کبھی غیرت کبھی بقائے نسل کے کبھی حیا کے جذبات میں حرکت پیدا کی ہے۔چنانچہ آپ نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ کیا تم لوگ مسیح کی نسبت صلیب پر مرنے کا عقیدہ رکھ کر اسے ملعون قرار دیتے ہو؟ اس پر غور کرو اور سوچو۔اس طرح ان کے دلوں میں حضرت مسیح کی محبت کے جذبات کو پیدا کر دیا گیا اور اس جائز محبت کے جذبات کے ذریعہ اس نا جائز محبت کے جذبات کو کہ انہوں نے مسیح کو خدا سمجھ رکھا ہے کاٹ دیا گیا۔غرض خدا تعالیٰ نے مبلغ دونوں مددگاروں سے اکٹھا کام لینا چاہئے کو یہ مدگار اور ہتھیار دیئے ہیں۔(1) دلائل عقلی پیش کرنا (2) جذبات کو صحیح اور درست باتوں کے متعلق ابھارنا۔ان میں سے اگر کسی ایک کو چھوڑ دیا جائے اور اس سے کام نہ لیا جائے تو کامیابی نہیں ہو سکتی۔اگر صرف جذبات کو ابھارنا شروع کر دیا جائے اور دلائل دینے چھوڑ دیئے جائیں تو