زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 51
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 51 جلد اول خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو کس قدر درجے دے سکتا ہے۔دیکھو حضرت مسیح موعود 23 سال اپنے درجے کے متعلق لوگوں کو سمجھاتے رہے ہیں لیکن اخیر میں لکھ دیا کہ تم سمجھ ہی نہیں سکتے کہ خدا کے نزدیک میرا کیا درجہ ہے۔پھر آپ نے لکھا ہے کہ جو بھی تعریفی کلمات میرے متعلق کہے جائیں وہ سچ ہیں جھوٹ نہیں ہو سکتے۔پس جب اس امت کے لئے ایسے ایسے مدارج کا رستہ کھلا ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کسی سے نسبت دے کر ہم دعا کریں بلکہ ہمیں یہ دعا کرنا چاہئے کہ جس قدر بھی درجات حاصل ہو سکتے ہیں وہ حاصل ہوں۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کے لئے دعا اس موقع پر صرف لڑکوں کے لئے دعا کرنے کی تحریک کی گئی ہے لیکن میرے نزدیک ولی اللہ شاہ کے لئے یہ دعا کرنا بہت ضروری ہے کہ یہ جو علم حاصل کر کے آئے ہیں انہیں اس سے فائدہ اٹھانے کی خدا تعالیٰ توفیق دے۔اس میں شک نہیں کہ یہ بہت کچھ پڑھ کے آئے ہیں۔لیکن کہتے ہیں العِلمُ حِجَابُ الأَكْبَرِ بعض اوقات علم بہت بڑا حجاب بھی ہو جاتا ہے تو ان کے لئے دعا کرنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے دل میں ایسے خیالات پیدا ہو جائیں جو نا درست ہوں۔پس جہاں لڑکوں کے لئے اس دعا کی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں دین و دنیا کا علم دے وہاں ان کے لئے اس دعا کی ضرورت ہے کہ انہیں علم سے کام لینے کی توفیق بخشے۔کیونکہ یہ ایسے نازک مقام پر کھڑے ہیں کہ جہاں سے شیطان بآسانی پھسلا سکتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ پڑھا ہے مگر اس سے انہیں اسی وقت تک فائدہ ہو سکتا ہے جب تک کہ حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے ماتحت رہ کر کام کریں اور اگر اس نے علیحدہ ہو کر چاہیں کہ اس سے کام لیں تو یہ ان کے لئے بھی موت ہوگی اور جو اس سے متاثر ہوں گے ان کے لئے بھی۔اس لئے ہم سب کو دعا کرنی چاہئے کہ خدا تعالیٰ انہیں تو فیق دے کہ انہوں نے جو کچھ سیکھا ہے اسے خدا کی منشا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کے مطابق خرچ کریں۔پس میں جہاں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ تم صرف ان کے علم سیکھنے پر خوشی کا اظہار "