زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 50

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 50 جلد اول ابھی مجھے ان کے متعلق ایک واقعہ یاد آ گیا ہے ہم چھوٹے چھوٹے اکٹھے کھیلا کرتے تھے۔میرے پاس چھوٹی سی بندوق تھی جو چودہ آنہ کو آئی تھی اس کے لینے کے لئے یہ میرے پیچھے پڑ گئے اور جب میں نے انہیں دی تو اس قدر خوش ہوئے کہ شاید اتنی خوشی انہیں اب علم پڑھ کے آنے پر بھی نہ ہوئی ہوگی۔تو یہ پیدا ہی ایسے نہ ہوئے تھے تمہاری طرح ہی کے تھے اور تم میں سے ہی تھے لیکن سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے باہر گئے کوشش کی تو مکرم معظم ہے گئے۔اب اگر تم بھی کوشش کرو تو تم علم حاصل کر سکتے ہو۔ہو تمہارے سپر نٹنڈنٹ صاحب نے کہا ہے کہ میں تمہارے لئے دعا کروں کہ تم سید ولی اللہ شاہ جیسے ہو جاؤ۔لیکن میرے خیال میں نبی کے سوا کسی کی مشابہت حاصل کرنے کی دعا کرنا ٹھیک نہیں۔کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ جس کی مشابہت کے لئے دعا کی جائے گی اس کا اندرونہ کیسا ہے۔علاوہ ازیں میں تو حضرت ابوبکر اور سید عبد القادر جیلانی ایسے بزرگوں کی مشابہت کے لئے دعا کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو جو کچھ دیا ہے اس سے بڑھ کر دینے کی طاقت رکھتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ دیا جو اس امت میں اور کسی کو نہیں دیا گیا۔پس جب خدا تعالیٰ اب بھی روحانیت کے اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج عطا کر سکتا ہے اور کرتا ہے تو پھر کسی ایسے شخص سے جو نبی نہ ہو مشابہت کی دعا کرنے والے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی فقیر کو ایک ڈپٹی نے پیسہ دیا تو اس نے اس کے لئے دعا کی کہ خدا تمہیں تھانیدار بنائے حالانکہ یہ اس کے لئے دعا نہ تھی بلکہ بددعا تھی کہ ڈپٹی سے تنزل ہو کر تھانیدار بن جائے۔پس کسی کے لئے ہم یہ کیوں کہیں کہ خدا اسے ولی اللہ شاہ کی طرح بنا دے۔کیا خدا اس سے بڑھ کر نہیں بنا سکتا یا نہیں بناتا؟ اگر بناتا ہے تو پھر ہم اس کے فضل کو محدود کیوں کریں۔پس میں ان بچوں کے لئے دعا تو کروں گا مگر یہ نہیں کہ انہیں سید ولی اللہ شاہ جیسا بنا دے بلکہ یہ کہ اس امت کے لوگوں کے لئے جس قدر در جے ملنے ممکن ہیں وہ دے۔ہمیں درجوں کے نام لے کر دعا کرنے کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ