زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 47
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 47 جلد اول کئی اصحاب داخل ہوئے۔اور حال ہی میں ایک خان بہادر اور آنریری مجسٹریٹ نے بیعت کی ہے اس سے ظاہر ہے کہ ہمارا سلسلہ خدا کے فضل سے دن بدن بڑھ رہا اور ہر طرح سے اس میں ترقی ہو رہی ہے۔لیکن پھر بھی ہمیں تا حال اسی بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کے دلوں میں حق اور صداقت کی عمارتیں کھڑی کریں اور اینٹوں کی عمارتیں جن کا کالج کے لئے ہونا ضروری ہے ان کو ابھی رہنے دیں۔اس میں شک نہیں کہ ہم ایسی عمارتوں کے لئے اگر روپیہ جمع کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں مگر ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت جس قدر بھی روپیہ جمع ہو سکے اسے دلوں میں عمارتیں بنانے پر خرچ کیا جائے نہ کہ اینٹوں اور پتھروں کی عمارتوں پر لگایا جائے۔عمارتیں بنانے کے متعلق حضرت مسیح موعود کا بھی یہی عمل تھا۔چنانچہ یہاں عمارتیں بنانے کے لئے جب آپ سے کہا گیا کہ آپ چندہ کے لئے تحریک کریں یا وفد بھیجنے کی اجازت دیں تو آپ نے نا پسند کیا۔پھر وفد کے مجوزین نے میرے ساتھ بھیجنے کے لئے کہا مگر آپ نے مجھے بھی نہ بھیجا۔اس پر بھی وہ باز نہ آئے اور آپ کو یہ کہہ کر وفد لے گئے کہ ہم اصل میں لنگر وغیرہ مدات کے لئے چندہ جمع کرنے جاتے ہیں ان کے متعلق تحریک کرنے کے بعد عمارت کے لئے کہہ دیا کریں گے مگر جب وفد واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جن اصل اغراض کو پیش کر کے انہوں نے وفد کی اجازت لی تھی ان کے لئے تو بہت تھوڑا روپیہ لائے اور جس کے متعلق کہتے تھے کہ اس کے لئے ضمنی طور پر تحریک کر دیا کریں گے اس کے لئے کئی ہزار لائے۔میرے خیال میں یہی وجہ ہوئی کہ اس روپیہ کو جس کام میں انہوں نے خرچ کیا وہ ان کے لئے با برکت نہ ہوا۔البتہ ہمارے لئے بابرکت ہو گیا۔چونکہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کی مرضی کے خلاف کیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے جہاں وہ روپیہ خرچ ہوا وہاں سے انہیں نکال باہر کر دیا۔لیکن چونکہ وہ جماعت کا روپیہ تھا اس لئے ضائع نہ گیا بلکہ ہمارے کام آ کر بابرکت ہو گیا۔تو جو تحریک اس وقت کی گئی ہے اس قسم کی تحریکیں اپنے وقت کو چاہتی ہیں اور جب وقت آ گیا اُس وقت سب کچھ ہو جائے گا فی الحال جو کچھ کیا گیا ہے اسی سے فائدہ اٹھانا