زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 46
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 46 جلد اول ہو۔مگر جب اللہ تعالیٰ چاہے گا اس کا موقع آ جائے گا۔اس میں شک نہیں کہ مومن جس کام کو ہاتھ ڈالتا ہے وہ اگر خدا کی منشاء کے ماتحت ہو تو ہو جاتا ہے مگر ہمیں یہ نہیں چاہئے کہ خدا کا امتحان کریں۔پھر جن لوگوں کے سپرد کام ہیں ان کو خود اس قسم کی باتوں کا بہت خیال ہے اور ایسی ضروریات سے واقف ہیں مگر ہر ایک کام کے لئے وقت ہوتا ہے جب وہ وقت آ جائے تو سامان خود بخود پیدا ہو جاتے ہیں۔دیکھو ایک وقت تو ہماری جماعت پر وہ تھا کہ ایک شخص حاجی ریاض احمد آیا اور اس نے حضرت خلیفہ اول سے پوچھا کہ سرسید اور مرزا صاحب میں کیا فرق ہے؟ حضرت مولوی صاحب فرماتے تھے میں نے اسے کہا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو جماعتیں قائم ہوتی ہیں ان کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اول اول ان میں بڑے لوگ داخلی نہیں ہوتے۔اب دیکھو حضرت مرزا صاحب نے جو جماعت قائم کی ہے اس میں بڑے لوگ نہیں ہیں مگر سرسید کے ساتھ بڑے بڑے نواب، رئیس اور جاگیر دار شامل ہو گئے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ سرسید کو جو کامیابی ہوئی تو دنیوی اسباب کی وجہ سے ہوئی لیکن حضرت صاحب کو جو ترقی ہو رہی ہے وہ خدائی سامانوں کے ذریعہ ہو رہی ہے۔تو اُس وقت ہماری جماعت کی یہ حالت تھی۔پھر حضرت خلیفہ المسیح کے زمانہ میں دو ایسے آدمی داخل سلسلہ ہوئے جو دنیاوی لحاظ سے اچھی حیثیت رکھتے تھے اور اب تھوڑے ہی عرصہ میں پندرہ کے قریب ایسے شخص داخل ہو چکے ہیں۔اسی طرح ایک وقت تھا کہ اگر کوئی ایک سور و پیہ چندہ دیتا تو بڑا امیر سمجھا جاتا۔پھر وہ زمانہ آیا کہ ایک شخص نے پانچ ہزار روپیہ چندہ دیا۔اور اب یہ پہلا سال ہے کہ پندرہ ہزار روپیہ ایک شخص نے دیا ہے۔اس تھوڑے سے عرصہ میں باحیثیت اور بااثر لوگوں کا جماعت میں داخل ہونا دراصل میرے ایک رؤیا کی تعبیر ہے جو میں نے مولوی سید سرور شاہ صاحب کو سنایا تھا۔میں نے ایک لمبی دعا کی تھی جس میں یہ بھی کہا تھا مٹی نصر الله 1 اس پر مجھے چودھری نصر اللہ خان صاحب دکھلائے گئے۔اسی میں میں نے یہ دعا بھی کی تھی کہ ہمارے سلسلہ میں امراء داخل نہیں ہیں۔الہی ! ان کے دلوں کو کھول دے اور انہیں حق کے قبول کرنے کی توفیق بخش۔اس کے بعد جلد ہی